رشوت لینے کا مقدمہ، ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے چودھری سرفراز کی ضمانت خارج
تشہیر کی خبر
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے چودھری سرفراز کی رشوت کے مقدمے میں ضمانت خارج کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سمیت اہم امور پر گفتگو
عدالت کی کارروائی
ایف آئی اے سینٹرل کورٹ کے جج کے روبرو این سی سی آئی اے افسران کے خلاف رشوت لینے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے مزید 2 افسران کی ضمانتیں منظور کر لیں جب کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر چودھری سرفراز کی ضمانت خارج کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: تصویر میں سے ان پڑھ شخص کو ہٹا دو: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں دلچسپ تجربہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا
افسران کی ضمانت
عدالت نے این سی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر زاور اور ڈپٹی ڈائریکٹر عثمان کی ضمانتیں منظور کیں، جن کی جانب سے ایڈووکیٹ فاروق باجوہ عدالت میں پیش ہوئے۔ جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر چودھری سرفراز کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے دلائل دیے۔
یہ بھی پڑھیں: پیداواری شعبے سے اچھی خبر، خیبر پختونخوا میں بڑی مقدار میں تیل و گیس کی دریافت
مدعا کا بیان
ایڈیشنل ڈائریکٹر چودھری سرفراز نے اپنے وکیل کے ذریعے مؤقف میں کہا کہ ملزمان پر رشوت لینے کے شواہد ایف آئی اے پیش نہیں کر سکی۔ مقدمہ 90 لاکھ کا تھا جبکہ ریکوئری 4 کروڑ سے زائد کی ہوئی۔ ملزمان کے خلاف کوئی بھی متاثرہ شحص سامنے نہیں آیا۔
مقدمہ کی نوعیت
واضح رہے کہ ملزمان کے خلاف ایف آئی اے نے رشوت لینے کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔








