رشوت لینے کا مقدمہ، ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے چودھری سرفراز کی ضمانت خارج
تشہیر کی خبر
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے چودھری سرفراز کی رشوت کے مقدمے میں ضمانت خارج کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: منیجر پاکستان ہاکی ٹیم مبینہ طور پر جہاز میں سگریٹ پیتے پکڑے گئے، آف لوڈ کردیاگیا
عدالت کی کارروائی
ایف آئی اے سینٹرل کورٹ کے جج کے روبرو این سی سی آئی اے افسران کے خلاف رشوت لینے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے مزید 2 افسران کی ضمانتیں منظور کر لیں جب کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر چودھری سرفراز کی ضمانت خارج کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ناگزیر ہے
افسران کی ضمانت
عدالت نے این سی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر زاور اور ڈپٹی ڈائریکٹر عثمان کی ضمانتیں منظور کیں، جن کی جانب سے ایڈووکیٹ فاروق باجوہ عدالت میں پیش ہوئے۔ جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر چودھری سرفراز کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے دلائل دیے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ ٹیکنیکل تفصیلات ہیں: لڑاکا طیاروں کے سوال پر بھارتی ڈی جی ملٹری آپریشنز پھر کنفیوژن میں پھنس گئے
مدعا کا بیان
ایڈیشنل ڈائریکٹر چودھری سرفراز نے اپنے وکیل کے ذریعے مؤقف میں کہا کہ ملزمان پر رشوت لینے کے شواہد ایف آئی اے پیش نہیں کر سکی۔ مقدمہ 90 لاکھ کا تھا جبکہ ریکوئری 4 کروڑ سے زائد کی ہوئی۔ ملزمان کے خلاف کوئی بھی متاثرہ شحص سامنے نہیں آیا۔
مقدمہ کی نوعیت
واضح رہے کہ ملزمان کے خلاف ایف آئی اے نے رشوت لینے کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔








