حکومت کا آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے گندم خریداری کے عمل سے دستبرداری کا فیصلہ
حکومت کا گندم کی خریداری میں تبدیلی کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے گندم کی خریداری کے عمل سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔ اب وفاق اور صوبے صرف ایمرجنسی سٹاک کے لیے گندم رکھیں گے اور سال بھر کے لیے کل 62 لاکھ میٹرک ٹن ذخیرہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کی اکثریت بدظن ہو چکی، سیاسی لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کا احتساب کرنے کے لئے سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل احتسابی کمیشن تشکیل دیا جائے
گندم ذخیرہ کرنے کا منصوبہ
نیو ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے وفاق 15 لاکھ، پنجاب 25 لاکھ، سندھ 10 لاکھ، خیبرپختونخوا 7.5 لاکھ اور بلوچستان 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم ذخیرہ کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جناح گولڈ پولو کپ 2026ء ٹیم ایف جی پولو نے جیت لیا
نجی کمپنیوں کی شمولیت
اسٹریٹجک ذخائر کی خریداری اب وفاق یا صوبوں کے بجائے نجی کمپنیوں کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ وفاق صرف سروسز چارج ادا کرے گا۔ اس اقدام سے حکومت کو سالانہ تقریباً 570 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے علاقے میں راجپوتوں کے کچھ دیہات کو حکومت نے جرائم پیشہ قرار دیدیا تھا، چوریاں بہت ہوتی تھیں، مویشیوں کی چوری عام تھی۔
سپورٹ پرائس سبسڈی کی ختمی
مزید برآں، سپورٹ پرائس سبسڈی ختم کر دی گئی ہے اور گندم کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مطابق طے کی جائیں گی۔ وزارت غذائی تحفظ عالمی بینچ مارک کے مطابق قیمتوں کا تعین کرے گی۔
آئی ایم ایف کی شرائط
آئی ایم ایف نے حکومت کو امدادی قیمت مقرر کرنے سے بھی روکا ہوا ہے، جس کے باعث پہلے فوڈ سیکٹر کا گردشی قرض تقریباً 270 ارب روپے ہو چکا تھا.








