حکومت کا آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے گندم خریداری کے عمل سے دستبرداری کا فیصلہ
حکومت کا گندم کی خریداری میں تبدیلی کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے گندم کی خریداری کے عمل سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔ اب وفاق اور صوبے صرف ایمرجنسی سٹاک کے لیے گندم رکھیں گے اور سال بھر کے لیے کل 62 لاکھ میٹرک ٹن ذخیرہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: افتخار ہمدانی کی ہمشیرہ سیدہ فرحت جبین کے سانحہ ارتحال پر باہی عجمان پیلس میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد
گندم ذخیرہ کرنے کا منصوبہ
نیو ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے وفاق 15 لاکھ، پنجاب 25 لاکھ، سندھ 10 لاکھ، خیبرپختونخوا 7.5 لاکھ اور بلوچستان 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم ذخیرہ کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیر خارجہ کی متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات
نجی کمپنیوں کی شمولیت
اسٹریٹجک ذخائر کی خریداری اب وفاق یا صوبوں کے بجائے نجی کمپنیوں کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ وفاق صرف سروسز چارج ادا کرے گا۔ اس اقدام سے حکومت کو سالانہ تقریباً 570 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا پی آئی سی ٹو ہسپتال کا دورہ، جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ، درکار مشینری کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم
سپورٹ پرائس سبسڈی کی ختمی
مزید برآں، سپورٹ پرائس سبسڈی ختم کر دی گئی ہے اور گندم کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مطابق طے کی جائیں گی۔ وزارت غذائی تحفظ عالمی بینچ مارک کے مطابق قیمتوں کا تعین کرے گی۔
آئی ایم ایف کی شرائط
آئی ایم ایف نے حکومت کو امدادی قیمت مقرر کرنے سے بھی روکا ہوا ہے، جس کے باعث پہلے فوڈ سیکٹر کا گردشی قرض تقریباً 270 ارب روپے ہو چکا تھا.








