اسرائیل کا اسلحے کی صنعت پر 110 ارب ڈالر خرچ کرنے کا اعلان
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا بڑی سرمایہ کاری کا اعلان
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اسرائیل آئندہ دس برسوں کے دوران 350 ارب شیکل (تقریباً 110 ارب امریکی ڈالر) خرچ کرے گا تاکہ ایک مضبوط اور زیادہ سے زیادہ خودمختار اسلحہ صنعت قائم کی جا سکے اور دیگر ممالک پر انحصار کم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ہوستیل میں سینئر طلباء نے فول بنانے کی کوشش کی، حس مزاح سے خالی سوالات پر کاؤنٹر کرتے ہوئے آئینہ دکھایا توانہوں نے بھاگ جانے میں ہی عافیت جانی۔
نئے پائلٹس کی تقریب میں خطاب
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق نیتن یاہو نے نئے پائلٹس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ضروری دفاعی سامان کی خریداری جاری رکھے گا، تاہم اس کے ساتھ ساتھ ملک کو خود اپنے ہتھیار تیار کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام حملے کا قصور وار تو آپ کے اندر ہی ہے” ہندو پنڈت نے کھری کھری سنا دیں : ویڈیو دیکھیں
خود کفالت کی کوششیں
ان کا کہنا تھا کہ مکمل طور پر خود کفیل ہونا شاید کسی بھی ملک کے لیے ممکن نہ ہو، لیکن اسرائیل بھرپور کوشش کرے گا کہ زیادہ سے زیادہ اسلحہ ملک کے اندر ہی تیار کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ میں 7روز کی توسیع
حکومتی مقصد
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد ایک ایسی آزاد اسلحہ صنعت قائم کرنا ہے جو اسرائیل کو کسی بھی فریق، حتیٰ کہ اتحادی ممالک پر بھی دفاعی لحاظ سے کم سے کم انحصار کی طرف لے جائے۔
عالمی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کو عالمی سطح پر اسلحہ کی فراہمی اور فوجی امداد کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔








