کبھی کبھار منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے روسٹ گوشت پر ہاتھ صاف کرتے، بیگم کے حکم پر ہر ہفتے کی شام لاہور جاتا اور سوموار کی صبح بہاول پور۔ایک اور حماقت
مصنف کی شناخت
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 389
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے 4 ڈویژنز میں ماسک پہننا لازمی قرار
ہاشمی گارڈنز میں رہائش
ایک روز عامر نے کہا؛ "سر! ریسٹ ہاؤس میں خرچہ زیادہ ہے کیوں نہ آپ بھی میرے ساتھ ہاشمی گارڈنز میں ہی رہائش رکھ لیں۔ وہاں 2 کمرے ہیں ہمارا گزارہ اچھا ہو گا۔" اگلے ہی روز وہاں شفٹ ہوگیا۔ مالک مکان بخاری صاحب بینکار تھے، شریف اور ملنسار انسان۔ ان کی فیملی پردہ کرتی اور نچلی منزل پر رہتی تھی، البتہ کبھی کبھار ان کے معصوم چھوٹے چھوٹے بچوں سے شام کے وقت ملاقات ہو جاتی تھی۔ رشید ہمارا باورچی تھا۔ وہ ایکیسن آفس کا ہی ملازم تھا لیکن بہترین باورچی۔ ایک عرصہ سے یہی کام کر رہا تھا۔ پیار سے ہم اسے”رشیدم“ کہتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ شردھا کپور کے بھائی کو ممبئی پولیس نے 252 کروڑ روپے کے مبینہ منشیات کیس میں طلب کر لیا
رشیدم کی مہارت
وہ پاکستانی کھانے تو لذیذ بناتا ہی تھا لیکن شکار کا گوشت بنانے میں ماہر تھا۔ ہر سردی کے موسم میں ہمیں شکار کی مرغابی بڑی تعداد میں دوست بھیجتے اور رشیدم ہمیں اور ہمارے مہمانوں کو بھون کر کھلاتا اور ہم انگلیاں چاٹتے رہ جاتے تھے۔ 2012ء کا رمضان المبارک بہاول پور کی شدید گرمی میں میرا پہلا رمضان تھا۔ رشیدم سحری اور افطاری کے وقت موجود ہوتا۔ افطاری میں پکوڑے، کھجور اور دودھ سوڈا ہوتا مگر میں اپنی بیگم کی بنائی پر تکلف افطاری بہت مس کیا کرتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے تین سال پورا زور لگایا پی ٹی آئی ختم نہیں کرسکی، فواد چودھری
روزمرہ کی روٹین
مغرب کی نماز کے فوراً بعد وہ ہمیں کھانا کھلا کر گھر چلا جاتا اور رات گئے ہمیں پھر بھوک لگتی تو ہم احمد پوری گیٹ کے باہر پیٹ پوجا کے لئے سڑک کنارے ایک ریڑھی والے سے مرغ سجی کھانے پہنچ جاتے تھے۔ کبھی کبھار منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے روسٹ گوشت پر ہاتھ صاف کرتے۔ میں اپنی بیگم کے حکم پر ہر ہفتے کی شام لاہور جاتا اور سوموار کی صبح بہاول پور پہنچ جاتا۔ ایک اور حماقت۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور کابینہ کو توہینِ عدالت نوٹس، عافیہ صدیقی رہائی کیس کے لیے لارجر بنچ تشکیل
ملاقات حسین مدنی سے
حسین مدنی سے مسعود صابر؛ ایک روز عامر مجھے اپنے پرانے شناسابہاول پور میوزیم کے سربراہ اور مقامی ادبی شخصیت حسین احمد مدنی سے ملاقات کرانے ان کے دفتر لے آیا۔ باریش مدنی نے مسکراتے چہرے سے خوش آمدید کہا۔ تعارف ہوا، انہوں نے پر تکلف چائے پیش کی اور پھر ان سے گاہے بگاہے ملاقات ہونے لگی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کے بعد آگے کیا ممکن ہے؟
مسعود صابر سے دوستی
انہیں معلوم ہوا کہ میں بہاول پور پر سفر نامہ لکھ رہا ہوں تو مراسم دوستی میں بدل گئے۔ ایک روز کہنے لگے؛ "چلیں آپ کو بڑے پیارے اور ادب دوست شخصیت سے ملاتا ہوں۔" وہ مجھے "ویسب" (بہاول پور کا منفرد شادی ہال) کے مالک مسود صابر کے پاس لے آئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی دھند کے دوران شہریوں کو احتیاط سے ڈرائیو کرنے کی اپیل
مسعود صابر کی شخصیت
مسعود صابر بھی باریش تھا اور اس نے تعلقات عامہ میں اسلامیہ یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ صحافت کی بجائے اپنے بزنس سے منسلک ہو گیا۔ نفیس، پڑھا لکھا، ملنسار اور جادوئی شخصیت کا مالک مسعود کسی کسی کو ہی دوست بناتا تھا۔ حسین مدنی نے تعارف کرایا اور پھر میں مسعود صابر کا ہی ہو گیا۔ اُس کا کمرہ 2 چیزوں سے لدا رہتا، کتابیں اور خلوص۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات سے 5 مطلوب اشتہاری گرفتاری کے بعد پاکستان منتقل
ادبی حلقے کی محفلیں
کمرے میں کوئی نہ کوئی ادب دوست شخصیت موجود ہوتی یا کوئی ہونہار طالب علم ان کی محبت کا نیاز مند ہو چکا ہوتا۔ وہ نوجوان اور مستحق طالب علموں کی مالی معاونت بھی کرتا تھا۔ اسے جب علم ہوا کہ میں ایک کتاب تحریر کر رہا ہوں اور وہ بھی بہاول پور پر، تو اس کی چاہت اور بڑھ گئی تھی۔ ایک روز عامر کی بھی اس سے ملاقات کرائی۔ یوں مقامی حکومت کے ارسطو اور ویسب کے افلاطون کے درمیان تصوف، فلسفہ، اسلام اور دیگر موضوعات پر مدبرانہ بحث ہوتی۔ اگلے ڈیڑھ برس تک بعد از نماز مغرب تا نماز عشا ویسب ہی ہمارا ٹھکانہ ہوتا تھا۔
نوٹ
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








