سرخ رنگ کا نہانے کا صابن گھر میں دیکھا ضرور تھا لیکن کبھی استعمال نہیں کیا،گھروں میں بھینسوں کا رکھنا عام تھا،شادیاں بڑی سادگی سے کی جاتی تھیں
مصنف کا تعارف
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 8
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان حکومت نے بھی 6 ستمبر کو عام تعطیل کا اعلان کردیا
صفائی اور صحت کے معیار
صفائی ستھرائی کا معیار ابھی کافی نچلی سطح پر تھا۔ نہانے کے صابن سے نہانے تک کا رواج بھی ابھی رائج نہ ہوا تھا۔ میں نے سُرخ رنگ کا نہانے کا صابن گھر میں دیکھا ضرور تھا، لیکن اُس کا کبھی استعمال کیا؟ یاد نہیں! اِسی وجہ سے ٹانگوں، ٹخنوں، پاؤں پر پھوڑے پھنسیوں کا نکلنا عام تھا۔ جن پر مرہم لگانے کے لیے گاؤں کے حجاّم سے رابط کیا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا شہید ورکرز کے اہلخانہ کیلئے ایک ایک کروڑروپے امداد کااعلان
گاؤں کا رہن سہن
گھروں میں بھینسوں کا رکھنا عام تھا۔ دریائی علاقوں میں واقع قصبوں میں بڑی تعداد میں بکریوں کے ریوڑ ہوتے تھے۔ صبح کو مالکان ان کو دریائی بیلہ میں چھوڑ جاتے اور شام کو آکر مالک جو سیٹی بجاتا تو اُس کی سبھی بکریاں بیلے سے نکل کر اُس کے پاس آجاتیں اور وہ اُن کو لے جا کر دودھ دوہتا اور اپنے باڑے میں بند کر دیتا۔ یہ صورتحال دریائے بیاس پر واقع قصبہ اِہوں میں دیکھی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے جنگ میں جہازوں کے گرنے کے واقعات دیکھے، لاہور کے شہری طیاروں کی لڑائی اس طرح دیکھتے جیسے پتنگوں کے پیچ لڑائے جا رہے ہوں
سادہ شادیاں
لوگوں کا رہن سہن سادہ تھا۔ شادیاں بھی بڑی سادگی سے کی جاتی تھیں۔ اُن دنوں بارات ایک دن صبح آکر رات بسری کر کے اگلے دن واپس جایا کرتی تھی۔ اِس کی وجہ ذرائع رَسل و رَسائل کا عام نہ ہونا تھا۔ شادیوں کے کھانے میں بکرے کے گوشت کا سالن، روٹی اور میٹھے گُڑ والے چاول ایک عام مینیو تھا۔ گرمیوں میں بارات کی آمد پر اُن کی تواضع شکّر کے شربت سے کی جاتی تھی۔ برف کا اُن دنوں رَواج نہ تھا اور چینی ابھی عام نہ ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت عالمی امن کے لئے خطرہ بن چکا ہے، طالبان رجیم کے پیدا کردہ حالات نائن الیون سے زیادہ خطرناک ہیں، صدر مملکت آصف علی زرداری
مختلف مذاہب کا باہمی تعامل
ہندو، سِکھ، مسلمان بلا تفریق کاروبار زندگی چلاتے تھے، گو چُھوت چَھات بھی ساتھ ساتھ چلتی تھی۔ روز مرّہ میں یہ تفاوت دیکھنے میں بھی آتی تھی۔ مثلاً ہمارے گاؤں میں ہمارے ہی محلّے میں ہمارے گھر کے پاس جو کنواں تھا، اُس کے اُوپر درمیان میں ایک شہتیر رکھ کر اُسے دو حصّوں میں بانٹ دیا گیا تھا۔ شہتیر کے ایک طرف ہندو سِکھ کنوئیں سے پانی بھرتے اور دُوسری طرف سے مسلمان، گو کہ نیچے پانی تو سب کا ایک ہی طرح کا تھا اور وہاں کوئی دیوار حائل نہ تھی۔ اِس صورتحال میں بھی کوئی یہ سوچ نہ سکتا تھا کہ وہ دُوسری طرف جا کر پانی بھر لے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے سامنے تو گمشدگی کا ابھی تک کوئی کیس نہیں آیا، آپ کے حلقے میں کیا یہ ایک ایشو رہ گیا ہے؟ جسٹس اعجاز انور کا شاندانہ گلزار سے استفسار
دوکانوں میں تعامل
گاہک ہندو ہو، مسلمان ہو، کسی بھی دوکان سے سودا خرید سکتا تھا۔ “نواں شہر” میں ایک ہندو “ڈاکٹر آسانند” کے پاس ہر مذہب کا ماننے والاعلاج کے لیے جاتا تھا اور میرے والد حکیم ہاشم علی کے دواخانہ بنام “دوآبہ سنیاسی کمپنی” کے ہاں علاج کے لیے بھی سبھی لوگ جاتے۔ شادی بیاہ میں ایک دُوسرے کو مبارکباد دینے آتے تھے۔ فوتیدگی پر بھی ایک دوسرے کے پاس افسوس کرنے آتے تھے۔ کسی کے گھریلو معاملات میں دخل اندازی نہ کرتے۔ ایک کی عزّت سب کی عزتّ سمجھی جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: 1947ء میں قائد اعظمؒ کی قیادت میں جنگ جیتی تھی، مسلم لیگ ہی پاکستان کے استحکام کے تقاضوں سے عہدہ برا ٓہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کنگلا کی کہانی
کنگلا: نام تو اُس کا شاہ محمد تھا۔ لیکن غریبی جہاں اور سب کچھ دھیرے دھیرے نچوڑ لیتی ہے وہاں نام کی کیا مجال جو پیدائشی دِلرُبائی کے ساتھ اُسی طرح تنا رہے اور خم کھا کر شاہ محمد سے “شاہو” نہ ہوجائے۔ “شاہو” کا معمول تھا کہ صبح سویرے بغیر کچھ کھائے پئے اپنی “سارنگی” بغل میں دبائے گھر سے نکل کر اپنے شانے پر رکھّے گاؤں، اُن میں “بھگوراں” ہو “برنالہ” ہو “گوردت سنگھ والا” ہو “سلوہ” ہو یا مُتعدد دوسرے قریبی گاؤں وہاں جا دھمکتا۔ گاؤں کے ایک سرے پر پہنچ کر گلے میں دو عدد کپڑے کی دو جھولیاں ڈال لیتا اور سارنگی پر چلتے چلتے “میاں محمد بخش” کے کلام کے “چند گِنے چُنے” “رٹے رَٹائے” اشعار گاتا جاتا اور ہر گھر کے دروازے پر ذرا سا توقفّ کرتا۔ سبھی گاؤں والوں کو “شاہو” سے شناسائی تو تھی ہی۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ان کے لیے کچھ دُعائیہ کلمات ادا کرتا ہوا گذرتا ہے۔ لہٰذا کچھ خُدا ترس بیبیاں سارنگی کی آواز سُن کر یا تو غلّہ کی ایک مُٹّھی یا پھر گُڑیا کوئی دوسری کھانے کی چیز اُس کی جھولی میں ڈال دیتیں اور وہ “سب کا بھلا سب کی خیر” کہتے ہوئے آگے گزر جاتا۔ اُن جھولیوں کا بھی ہر ایک کو علم تھا۔ سوکھا غلّہ دائیں جھولی میں باقی کھانے کی اشیاء بائیں جھولی میں ڈالنی ہوتی تھیں۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب “بک ہوم” نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








