بانی پاکستان کا یومِ پیدائش، پاکستان جرنلسٹس فورم نے سالگرہ کا کیک کاٹا
قائد اعظم محمد علی جناح کی 149ویں سالگرہ
جدہ(بیورو رپورٹ) بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 149ویں یوم پیدائش کی خوشی میں پاکستان جرنلسٹس فورم نے انکی سالگرہ کا کیک کاٹا۔
یہ بھی پڑھیں: صحافی پر افغانی ہونے پر شناختی کارڈ منسوخی کے خلاف کیس، وزارتِ داخلہ کو 30 روز میں اپیل پر فیصلہ کرنے کا حکم
تقریب کی صدارت
اس موقع پر فورم کے اراکین نے عشائیہ کا اہتمام کیا۔ تقریب کی صدارت فورم کے صدر چوہدری معروف حسین نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں معروف حسین نے کہا:
آج ملک پندرہ کروڑ سے زائد عوام ہندو سے آزادی دلوانے والے شخص کی پیدائش کی خوشی میں قائد کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف اوقات میں مفاد پرست اور کرپٹ سیاستدانوں نے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ رمضان المبارک میں اللہ تعالی نے یہ تحفہ دیا، جسکی حفاظت بھی ملک کے محب وطن عوام کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پڑھے لکھے مگر کچھ ”میں“ والے انسان تھے، ایک بار انہیں ملنے گیا تو طویل انتظار کرایا، میں ملے بغیر یہ کہہ کر واپس آ گیا ”آپ سے ایسی توقع نہ تھی“
آزادی صحافت پر قائد کے خیالات
آزادی صحافت پر قائد کے احکامات کا ذکر کرتے ہوئے معروف حسین نے کہا کہ بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے آزادی صحافت (Freedom of Press) کے بارے میں متعدد مواقع پر واضح اور دو ٹوک خیالات کا اظہار کیا تھا:
میں صحافت کی آزادی پر مکمل یقین رکھتا ہوں۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کی صحافت آزاد، بے خوف اور ذمہ دار نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: باجوڑ میں 2 دھماکے
مقررین کے خیالات
سابق صدر شاہد نعیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اخبارات اور صحافیوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کی صحیح رہنمائی کریں، حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کریں اور حقائق کو بلا خوف و خطر سامنے لائیں۔ جنرل سیکریٹری جمیل راٹھو نے کہا کہ آزاد صحافت جمہوریت کی روح ہے، اور جمہوریت کے بغیر پاکستان اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم پر عمل درآمد کے لیے تیاریاں شروع کردیں
جرنلسٹس فورم کی حیثیت
سرگرم رکن خالد چیمہ نے کہا کہ جرنلسٹس فورم نہ ملک میں نہ بیرون ملک ایسی صحافت کا حامی نہیں جو انتشار پھیلائے۔ چیئر میں فورم نے کہا کہ:
صحافت کے نام پر روٹی کی پجاری کالی بھیڑیں صحافیوں کا لبادہ اوڑھ کر پاکستان اور بیرون ملک اپنی نا تجربہ کاری کا مظاہرہ کررہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا کرنسی تبادلے کے معاملے میں بینکوں کو آزاد کرنے کا اعلان
صدارتی خطاب کے اہم نکات
اسد اکرم نے کہا کہ قائد کے فرمودات “ایمان، اتحاد، تنظیم” سے بحثیت قوم ہم دور ہو گئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ہم ان فرمودات کو اپنائیں اور ان پر عمل کریں، یہ کامیابی کی ضمانت ہیں۔
قائد کے اقوال و خیالات
دیگر مقررین ذکیر بھٹی، امانت اللہ، مریم شاہد، عالیہ ذرار، فوزیہ خان، عامل عثمانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ اعظمؒ کے نزدیک آزادی صحافت ناگزیر تھی، مگر وہ اس آزادی کے ساتھ *ذمہ داری، دیانت اور قومی مفاد* کو بھی لازمی سمجھتے تھے۔
ان کے نزدیک آزاد اور ذمہ دار میڈیا ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ:
جموریت ہماری رگوں میں دوڑتی ہے۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا نظامِ حکومت مشاورت اور عوامی رائے پر مبنی ہے۔
مقررین نے قائد کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی اور اقربا پروری ایسی لعنتیں ہیں جو کسی بھی قوم کی جڑیں کھوکھلی کر دیتی ہیں۔








