لاہور ہائیکورٹ: پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت قبضے پر سخت ریمارکس، فوری واپسی کا حکم
لاہور ہائیکورٹ میں پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کی سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت کی گئی کارروائیوں کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلام نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے ڈی آر سی کمیٹی کے ذریعے حاصل کیا گیا قبضہ فوری طور پر واپس کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کی ایک بار پھر پنجاب حکومت کی جانب سے آئمہ کرام کو وظیفہ دینے کے فیصلے پر سخت تنقید
درخواست کی سماعت اور عدالت کے سوالات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلام نے محمد علی کی درخواست پر سماعت کی جس دوران پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت قبضہ حاصل کرنے والا شہری بھی عدالت میں پیش ہوا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے قبضہ حاصل کرنے والے شہری کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ غلط فیصلے کا دفاع کیسے کر سکتے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: تباہ شدہ اسٹیشنوں کی عمارتیں تو ہر جگہ نظر آتی ہیں لیکن اب کوئی گاڑی سیٹی بجاتی نہیں جاتی، خوبصورت یادیں میرے حافظے میں پنجے گاڑے بیٹھی ہیں
عدالت کے سخت ریمارکس
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی سیز کے ماتحت قائم کمیٹیوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے قبضہ واپس کریں، پھر مزید بات ہوگی۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ کیوں نہ کمیٹی ممبران کے خلاف کارروائی شروع کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا ؟
نظام میں خرابی اور وکیل کے سوالات
چیف جسٹس عالیہ نیلام نے کہا کہ وکیل خود تسلیم کر رہا ہے کہ ڈی سیز نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ اگر پٹواری وقت پر کام کرتا تو یہ معاملہ پیدا ہی نہ ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی خودمختاری اور سمندری سرحدوں کا دفاع کرنا جانتے ہیں، سربراہ پاک بحریہ
سسٹم کی کامیابی کی اہمیت
سماعت کے دوران وکیل نے کہا کہ اگر سسٹم سے انصاف نہیں ملے گا تو لوگ کہاں جائیں؟ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اخباری خبروں کے لیے عدالت میں ڈائیلاگ نہ ماریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ عدالتوں میں کتنے پرانے کیسز زیر التوا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملزم کو مقابلے میں مارے جانے کا ڈر، کمرہ عدالت میں گرفتاری دے دی
قبضے کی تفصیلات اور عدالت کے سوالات
وکیل نے بتایا کہ دیپالپور میں 40 ایکڑ پراپرٹی پر مخالفین قابض ہیں۔ مخالف فریق کے وکیل نے کہا کہ ڈی آر سی کمیٹیز نے 27 دن میں قبضہ دلایا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ قبضے کا آرڈر پاس کس نے کیا؟
یہ بھی پڑھیں: ویوو نے 200 میگا پکسل ZEISS APO ٹیلی فوٹو کیمرہ اور Dimensity 9500 کے ساتھ X300 Pro متعارف کرا دیا
کمیٹی کے اختیارات پر تشویش
چیف جسٹس عالیہ نیلام نے قرار دیا کہ کمیٹی کا قبضے کا آرڈر مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ وکیل نے تسلیم کیا کہ ڈی سیز نے غلط فیصلہ دیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ خود مان رہے ہیں کہ ان کے پاس قانون کے تحت فیصلے کا اختیار ہی نہیں تھا۔
عدالت کی وضاحت
عدالت نے واضح کیا کہ ڈی سی اس معاملے میں فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں اور اصل سوال یہ نہیں کہ درخواست گزار پراپرٹی کا مالک ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ڈی سیز کو ایسے فیصلوں کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔








