لاہور ہائیکورٹ: پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت قبضے پر سخت ریمارکس، فوری واپسی کا حکم

لاہور ہائیکورٹ میں پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کی سماعت

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت کی گئی کارروائیوں کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلام نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے ڈی آر سی کمیٹی کے ذریعے حاصل کیا گیا قبضہ فوری طور پر واپس کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں ریلوے ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں

درخواست کی سماعت اور عدالت کے سوالات

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلام نے محمد علی کی درخواست پر سماعت کی جس دوران پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت قبضہ حاصل کرنے والا شہری بھی عدالت میں پیش ہوا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے قبضہ حاصل کرنے والے شہری کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ غلط فیصلے کا دفاع کیسے کر سکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں روڈز کی تعمیر و مرمت کے 97 فیصد فنڈز کے بروقت استعمال کا مثبت ریکارڈ بن گیا، لاگت میں اوسطاً 20 فیصد کمی

عدالت کے سخت ریمارکس

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی سیز کے ماتحت قائم کمیٹیوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے قبضہ واپس کریں، پھر مزید بات ہوگی۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ کیوں نہ کمیٹی ممبران کے خلاف کارروائی شروع کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری

نظام میں خرابی اور وکیل کے سوالات

چیف جسٹس عالیہ نیلام نے کہا کہ وکیل خود تسلیم کر رہا ہے کہ ڈی سیز نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ اگر پٹواری وقت پر کام کرتا تو یہ معاملہ پیدا ہی نہ ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: لاہور میں ایسی سڑک جہاں ہر قسم کی گاڑی کا داخلہ منع ہے، پیدل چلنے کیلئے خوبصورت سڑک بن گئی، مزید کیا کیا سہولیات؟ جانیے

سسٹم کی کامیابی کی اہمیت

سماعت کے دوران وکیل نے کہا کہ اگر سسٹم سے انصاف نہیں ملے گا تو لوگ کہاں جائیں؟ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اخباری خبروں کے لیے عدالت میں ڈائیلاگ نہ ماریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ عدالتوں میں کتنے پرانے کیسز زیر التوا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سدرہ قتل کیس، قتل کا فیصلہ سنانے والے جرگے کے سربراہ کی ضمانت منظور

قبضے کی تفصیلات اور عدالت کے سوالات

وکیل نے بتایا کہ دیپالپور میں 40 ایکڑ پراپرٹی پر مخالفین قابض ہیں۔ مخالف فریق کے وکیل نے کہا کہ ڈی آر سی کمیٹیز نے 27 دن میں قبضہ دلایا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ قبضے کا آرڈر پاس کس نے کیا؟

یہ بھی پڑھیں: خواجہ سراؤں سے بھتہ طلب کرنے والے ملزمان کی ضمانت خارج

کمیٹی کے اختیارات پر تشویش

چیف جسٹس عالیہ نیلام نے قرار دیا کہ کمیٹی کا قبضے کا آرڈر مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ وکیل نے تسلیم کیا کہ ڈی سیز نے غلط فیصلہ دیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ خود مان رہے ہیں کہ ان کے پاس قانون کے تحت فیصلے کا اختیار ہی نہیں تھا۔

عدالت کی وضاحت

عدالت نے واضح کیا کہ ڈی سی اس معاملے میں فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں اور اصل سوال یہ نہیں کہ درخواست گزار پراپرٹی کا مالک ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ڈی سیز کو ایسے فیصلوں کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...