عالمی حلقۂ فکروفن کے زیرِ اہتمام “شامِ دسمبر” کے عنوان سے ادبی و شعری نشست منعقد کی گئی
ادبی و شعری نشست "شامِ دسمبر" کا انعقاد
ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی عرب میں پاکستانی شعراء اور ادباء کی نمائندہ معروف ادبی تنظیم عالمی حلقۂ فکروفن کے زیرِ اہتمام “شامِ دسمبر” کے عنوان سے ایک پُروقار ادبی و شعری نشست ریاض میں منعقد ہوئی، جس میں اہلِ ذوق نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ محفل کا ماحول شعری کیف و سرور، ادبی گفتگو اور تہذیبی رنگوں سے آراستہ رہا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک، بھارت اصل مسئلہ دہشتگردی نہیں خطے کی غربت اور کشمیریوں کے حقوق کو تسلیم نہ کیا جانا ہے، دل سے ایک دوسرے کو آزاد ممالک تسلیم کرنا ہو گا
تقریب کی صدارت
تقریب کی صدارت معروف شاعر اور ادیب سید طیب رضا کاظمی نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ مشاعرہ ہمارا تہذیبی ورثہ اور علم و آگہی کا مؤثر وسیلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی محافل معاشرے میں فکری بالیدگی اور مثبت ادبی رجحانات کو فروغ دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی کی خاتون وکیل نے سینٹری پیڈز پر ٹیکس کیخلاف عدالت سے رجوع کرلیا
فکروفن کے صدر کی گفتگو
صدر عالمی حلقۂ فکروفن وقار نسیم وامق نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشاعرے اور شعری نشستیں نہ صرف شاعری کی نئی جہتوں سے روشناس کراتی ہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت اور رہنمائی کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فکروفن کا مقصد بیرونِ ملک پاکستانی ادب کو منظم انداز میں فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو ختم کرنے کا منصوبہ صرف اس لیے التوا کا شکار ہے کہ ایک مناسب لیڈر کی تلاش ہے جو خان کے خلا کو پر کر سکے؟ معید پیرزادہ کا دعویٰ
مہمانانِ خصوصی کی رائے
تقریب کے مہمانانِ خصوصی، کراچی سے تشریف لانے والے نامور شاعر شجاع الزمان شاد اور اسلام آباد سے تشریف لانے والے سماجی رہنما عزیزالرحمن مجاہد نے نوجوان شعراء کے کلام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی شعراء کے ہاں کلام کی پختگی اور فکری سنجیدگی نمایاں ہے۔ انہوں نے عالمی حلقۂ فکروفن کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے بیرونِ ملک پاکستانی ادب کی بہترین نمائندہ تنظیم قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سے لاہور پہنچی پرواز شدید طوفان کے باعث خوفناک حادثے سے بال بال بچ گئی
مہمانِ اعزاز کا اظہار خیال
تقریب کے مہمانِ اعزاز تبوک سے تشریف لانے والے کہنہ مشق شاعر مزمل بانڈے نے اپنے اظہارِ خیال میں عالمی حلقۂ فکروفن کی ادبی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ فکروفن بیرونِ ممالک خاص طور پر سعودی عرب میں شعر و ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے اور سنیئر شعراء کے ساتھ ساتھ نوجوان اور تازہ دم شعراء کے لیے بھی ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرا بیٹا میرے سامنے ڈانس کر رہا ہے،،لائیو پروگرام کے دوران شیرافضل مروت کو انٹرویو اچانک روکنا پڑ گیا ،ویڈیووائرل
تنظیم کے عہدیداران کا خطاب
قبل ازیں، وائس چیئرمین عالمی حلقۂ فکروفن عدنان اقبال بٹ اور کنوینئر مخدوم امین تاجر نے بھی شرکائے محفل سے خطاب کیا اور تنظیم کی جاری ادبی سرگرمیوں اور آئندہ پروگراموں پر روشنی ڈالی۔
یہ بھی پڑھیں: سٹاک ایکس چینج میں شدید مندی، انڈیکس 6300 پوائنٹس کی کمی سے ایک لاکھ 82 ہزار پوائنٹس پر آ گیا
تقریب کی شروعات اور دعاؤں کا حصہ
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت ملک اشتیاق ہیرا نے حاصل کی جبکہ تیمور نواز نے نعتِ رسولِ مقبولؐ پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں: بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی: وسطی و جنوبی پنجاب اور دیگر علاقوں میں کیا ہونے والا ہے؟
کتابوں کی توفیق
محفل کے دوران ڈپٹی سیکرٹری جنرل عالمی حلقۂ فکروفن اور نوجوان شاعر کامران حسانی نے اپنے مجموعۂ کلام “گلِ تازہ” کا خصوصی تحفہ شجاع الزمان شاد، عزیزالرحمن مجاہد اور مزمل بانڈے کو پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: فوڈ اتھارٹی کی فوڈ فراڈ مافیا کو نکیل ڈالنے کے لیے تابڑتوڑ کارروائیاں، 186 مقدمات درج، 1 ارب 10 کروڑ سے زائد جرمانہ
شرکاء کی شمولیت اور تخلیقی احساسات
محفل میں شعرائے فکروفن پروفیسر ساجد محمود، مزمل بانڈے، کامران حسانی، انیب ارشد، ضواق علی ذکی، محمد زرین مجبور، وقار نسیم وامق، شجاع الزمان خان شاد، سید طیب رضا کاظمی اور دیگر شعراء نے اپنے منفرد اور دلکش کلام سے حاضرین سے خوب داد سمیٹی۔ ہر شاعر نے اپنے مخصوص اسلوب اور فکری رنگ کے ساتھ محفل کو چار چاند لگا دیے۔
اختتام پر شکرگزاری
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے عالمی حلقۂ فکروفن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ایسی ادبی محافل مستقبل میں بھی اسی جذبے اور تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔








