عالمی حلقۂ فکروفن کے زیرِ اہتمام “شامِ دسمبر” کے عنوان سے ادبی و شعری نشست منعقد کی گئی
ادبی و شعری نشست "شامِ دسمبر" کا انعقاد
ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی عرب میں پاکستانی شعراء اور ادباء کی نمائندہ معروف ادبی تنظیم عالمی حلقۂ فکروفن کے زیرِ اہتمام “شامِ دسمبر” کے عنوان سے ایک پُروقار ادبی و شعری نشست ریاض میں منعقد ہوئی، جس میں اہلِ ذوق نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ محفل کا ماحول شعری کیف و سرور، ادبی گفتگو اور تہذیبی رنگوں سے آراستہ رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا جوابی حملہ شروع، کئی میزائل داغ دیے، اسرائیل کا ملٹری ہیڈ کوارٹر نشانہ بننے کی اطلاعات
تقریب کی صدارت
تقریب کی صدارت معروف شاعر اور ادیب سید طیب رضا کاظمی نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ مشاعرہ ہمارا تہذیبی ورثہ اور علم و آگہی کا مؤثر وسیلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی محافل معاشرے میں فکری بالیدگی اور مثبت ادبی رجحانات کو فروغ دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا حماس کے بانی رہنما، حزب کمانڈر شہید کرنے کا دعویٰ، 72 فلسطینی جاں بحق
فکروفن کے صدر کی گفتگو
صدر عالمی حلقۂ فکروفن وقار نسیم وامق نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشاعرے اور شعری نشستیں نہ صرف شاعری کی نئی جہتوں سے روشناس کراتی ہیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت اور رہنمائی کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فکروفن کا مقصد بیرونِ ملک پاکستانی ادب کو منظم انداز میں فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر امریکی حملوں کے بعد آف سائٹ تابکاری کی سطح میں اضافہ نہیں ہوا، یواین واچ ڈاگ
مہمانانِ خصوصی کی رائے
تقریب کے مہمانانِ خصوصی، کراچی سے تشریف لانے والے نامور شاعر شجاع الزمان شاد اور اسلام آباد سے تشریف لانے والے سماجی رہنما عزیزالرحمن مجاہد نے نوجوان شعراء کے کلام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی شعراء کے ہاں کلام کی پختگی اور فکری سنجیدگی نمایاں ہے۔ انہوں نے عالمی حلقۂ فکروفن کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے بیرونِ ملک پاکستانی ادب کی بہترین نمائندہ تنظیم قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک اور پیرس میں پی آئی اے کے ہوٹل نجکاری کا حصہ نہیں، مشیر نجکاری
مہمانِ اعزاز کا اظہار خیال
تقریب کے مہمانِ اعزاز تبوک سے تشریف لانے والے کہنہ مشق شاعر مزمل بانڈے نے اپنے اظہارِ خیال میں عالمی حلقۂ فکروفن کی ادبی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ فکروفن بیرونِ ممالک خاص طور پر سعودی عرب میں شعر و ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے اور سنیئر شعراء کے ساتھ ساتھ نوجوان اور تازہ دم شعراء کے لیے بھی ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور کرغزستان کے درمیان توانائی اور تجارت میں تعاون کے 15 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط
تنظیم کے عہدیداران کا خطاب
قبل ازیں، وائس چیئرمین عالمی حلقۂ فکروفن عدنان اقبال بٹ اور کنوینئر مخدوم امین تاجر نے بھی شرکائے محفل سے خطاب کیا اور تنظیم کی جاری ادبی سرگرمیوں اور آئندہ پروگراموں پر روشنی ڈالی۔
یہ بھی پڑھیں: جمہوریت کی بحالی میں بیگم نصرت بھٹو کی خدمات ناقابل فراموش ہیں: صدر مملکت
تقریب کی شروعات اور دعاؤں کا حصہ
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت ملک اشتیاق ہیرا نے حاصل کی جبکہ تیمور نواز نے نعتِ رسولِ مقبولؐ پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: فروری کے آغاز پر 4 چھٹیاں ایک ساتھ دینے پر غور
کتابوں کی توفیق
محفل کے دوران ڈپٹی سیکرٹری جنرل عالمی حلقۂ فکروفن اور نوجوان شاعر کامران حسانی نے اپنے مجموعۂ کلام “گلِ تازہ” کا خصوصی تحفہ شجاع الزمان شاد، عزیزالرحمن مجاہد اور مزمل بانڈے کو پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بوڑھی ماں کے سر پر 4 جوان معذور بچوں کی ذمہ داری، کس طرح جی رہے ہیں؟ دیکھ کر آنکھیں نم ہو جائیں
شرکاء کی شمولیت اور تخلیقی احساسات
محفل میں شعرائے فکروفن پروفیسر ساجد محمود، مزمل بانڈے، کامران حسانی، انیب ارشد، ضواق علی ذکی، محمد زرین مجبور، وقار نسیم وامق، شجاع الزمان خان شاد، سید طیب رضا کاظمی اور دیگر شعراء نے اپنے منفرد اور دلکش کلام سے حاضرین سے خوب داد سمیٹی۔ ہر شاعر نے اپنے مخصوص اسلوب اور فکری رنگ کے ساتھ محفل کو چار چاند لگا دیے۔
اختتام پر شکرگزاری
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے عالمی حلقۂ فکروفن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ایسی ادبی محافل مستقبل میں بھی اسی جذبے اور تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔








