بھائی کا وراثتی جائیداد زبانی تحفے میں ملنے کا دعویٰ مسترد
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ نے بھائی بہن کے درمیان 16 سال پرانا وراثتی جائیداد کا تنازع حل کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: کسی ٹک ٹاکر کی نازیبا ویڈیو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر نہ کریں ، اداکارہ مشی خان کا مشورہ
سیشن کورٹ کا فیصلہ برقرار
روزنامہ جنگ کے مطابق عدالت نے وراثتی جائیداد سے بہن کو حصہ دینے کا سیشن کورٹ کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے بھائی کا وراثتی جائیداد زبانی تحفے میں ملنے کا دعویٰ مسترد کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: میڈیکل سائنس کی دنیا میں انقلاب برپا ہو گیا، چینی ڈاکٹر نے ہزاروں میل دور سے مریض کی کامیاب سرجری کر دی
تحریری فیصلہ
جسٹس رسال حسن سید نے شہری محمد ریاض کی اپیل پر نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرگڑھ: کچے کے علاقے میں 11 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیئے
دعوی کی تفصیلات
جاری کردہ فیصلے کے مطابق درخواست گزار کا کہنا ہے کہ والد نے 2009 میں ساری جائیداد زبانی تحفے کے ذریعے اس کے نام کردی۔ تاہم درخواست گزار زبانی تحفے میں ملنے والی جائیداد کے ثبوت پیش نہیں کرسکا۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی فوج کا اسرائیلی شہریوں کے لیے پیغام
فیصلے کی بنیاد
فیصلے میں کہا گیا کہ بھائی نے اپنے حق میں زبانی تحفے کے ذریعے بہن کو وراثتی جائیداد میں حصے سے محروم کیا۔ زبانی تحفے کا بینفشری ہونے کے ناطے درخواست گزار کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحفے کو ثابت کرے۔ درخواست گزار نہیں بتا سکا کہ تحفہ کب، کہاں، کس وقت اور کن گواہوں کی موجودگی میں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ کی تشکیل کا معاملہ، مصطفیٰ نواز کھوکھر کی سپریم کورٹ میں درخواست دائر
اعتراضات اور توضیحات
فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے اعتراض عائد کیا کہ بہن نے تاخیر سے دعویٰ دائر کیا۔ بھائی غیر قانونی طور پر مرحوم باپ کی وراثتی جائیداد سے بہن کا حق ہتھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
عدالت کا اختتام
فیصلے میں کہا گیا کہ وراثتی حق سے متعلق دعویٰ محض مدتِ معیاد کی بنیاد پر ناقابلِ سماعت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ والد کے انتقال کے بعد 2009 میں وراثتی جائیداد بھائی اور بہن کو منتقل ہوئی۔ لہٰذا عدالت درخواستگار کی اپیل کو میرٹ پر مسترد کرتی ہے۔








