افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا مسائل کے حل کے سلسلے میں اہم بیان سامنے آ گیا
افغان وزیر داخلہ کا اہم بیان
کابل(ویب ڈیسک) افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے مسائل کے حل کے سلسلے میں ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے سیلاب میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کیلئے ڈرون کا استعمال شروع کر دیا
افغانستان کی حیثیت
تفصیلات کے مطابق، سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ افغانستان کسی بھی ریاست کے لیے خطرہ نہیں ہے اور موجودہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ کھلا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فاروق عبداللہ کا پاکستان اور بھارت کو ’’مشورہ‘‘
بات چیت اور مذاکرات کی اہمیت
’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق، کابل پولیس اکیڈمی کی گریجویشن تقریب میں خطاب کرتے ہوئے سراج الدین حقانی نے کہا کہ مسائل کا حل تصادم میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے۔ افغان حکومت اس حوالے سے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ افغان طالبان دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر قائم ہیں اور یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں 1979 جیسا انقلاب نہیں آسکتا، جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر کی سی این این سے گفتگو
عالمی برادری کے لیے یقین دہانی
افغان طالبان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، حقانی نے عالمی برادری کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ افغانستان خطے میں عدم استحکام کا سبب بننے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے منسلک 184 ملین سے زائد پاسورڈز لیک ہونے کا انکشاف
پاکستان کے حوالے سے پس منظر
سراج الدین حقانی نے اپنے خطاب میں پاکستان کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے بیان کو پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جس میں کابل سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کی ائیر ہیڈکوارٹرز آمد، ائیر چیف نے گرمجوشی سے استقبال کیا
پاکستان کا خاموش ردعمل
پاکستان کی جانب سے بھی سراج الدین حقانی کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
کشیدہ تعلقات کا پس منظر
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات حالیہ برسوں میں سرحدی جھڑپوں اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے کشیدہ رہے ہیں۔








