افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا مسائل کے حل کے سلسلے میں اہم بیان سامنے آ گیا
افغان وزیر داخلہ کا اہم بیان
کابل(ویب ڈیسک) افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے مسائل کے حل کے سلسلے میں ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت نے کوہ پیمائی ٹیکس میں 2 سال کی چھوٹ دیدی
افغانستان کی حیثیت
تفصیلات کے مطابق، سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ افغانستان کسی بھی ریاست کے لیے خطرہ نہیں ہے اور موجودہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ کھلا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے 10گنا بڑھانے کا فیصلہ
بات چیت اور مذاکرات کی اہمیت
’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق، کابل پولیس اکیڈمی کی گریجویشن تقریب میں خطاب کرتے ہوئے سراج الدین حقانی نے کہا کہ مسائل کا حل تصادم میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے۔ افغان حکومت اس حوالے سے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ افغان طالبان دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر قائم ہیں اور یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر کے علاقے باڑہ بازار میں اے این پی کے جلسے کے دوران ہنگامہ آرائی
عالمی برادری کے لیے یقین دہانی
افغان طالبان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، حقانی نے عالمی برادری کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ افغانستان خطے میں عدم استحکام کا سبب بننے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: خطے کا پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے وابستہ ہے، سہیل آفریدی
پاکستان کے حوالے سے پس منظر
سراج الدین حقانی نے اپنے خطاب میں پاکستان کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے بیان کو پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جس میں کابل سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سزا یافتہ کو احتجاج سے رہا کروایا جاتا ہے؟ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا استفسار
پاکستان کا خاموش ردعمل
پاکستان کی جانب سے بھی سراج الدین حقانی کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
کشیدہ تعلقات کا پس منظر
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات حالیہ برسوں میں سرحدی جھڑپوں اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے کشیدہ رہے ہیں۔








