پی ٹی آئی کو پاکستان مخالف بیانیہ بنا کر سیاست نہیں کرنے دیں گے، ایم کیو ایم پاکستان
گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا بیان
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو پاکستان مخالف بیانیہ بنا کر سیاست نہیں کرنے دیں گے، جب انکوائری کی جائے گی تو سب کیلئے مسئلہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں پولیس اور باغیوں کے درمیان جھڑپ، 11 افراد ہلاک
پی ٹی آئی کے بیانیے پر تنقید
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موجودہ بیانیہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے برطانیہ میں ملک کے خلاف باتیں کی گئیں، پی ٹی آئی کی جانب سے کی گئی باتیں تشویشناک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جشنِ وسیب:محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کی جانب سے ملتان میں ثقافتی جشن کا شاندار انعقاد
اوورسیز پاکستانیوں کے والدین کی ذمہ داری
گورنر سندھ نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، اوورسیز پاکستانی اپنے بچوں کو ایسے پروپیگنڈے سے دور رکھیں، پی ٹی آئی بیانیہ دفن ہوگیا، اب یہ اوورسیز پاکستانیوں کو ورغلا رہے ہیں، فیلڈ مارشل کو قتل کی دھمکیاں برداشت نہیں کریں گے، جو پاکستان کے خلاف بیانیہ بنائیں گے ہم اس کے خلاف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی ایئر پورٹ دھماکے کی تفتیش میں بڑی پیشرفت، خاتون سمیت دو افراد گرفتار
پی ٹی آئی کے رویے پر مزید تبصرہ
کامران ٹیسوری نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا نفرت انگیز بیانیہ زیادہ دیر نہیں چلے گا، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں، پی ٹی آئی کے کارکنوں کو بانی سے لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے معائنے سے متعلق ان کی بہن سے منسوب دعوے من گھڑت ہیں: پی ٹی آئی
خالد مقبول صدیقی کا موقف
چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان و وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ گورنر سندھ نے ایک اہم مسئلے پر توجہ دلائی ہے، پی ٹی آئی کا موجودہ لب و لہجہ کبھی کسی نے نہیں اپنایا، پی ٹی آئی کو شخصیت سے بالاتر ہو کر وطن کیلئے کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پولو کے نامور کھلاڑی محمد حسین کا مبینہ قتل،لاش دریا سے مل گئی
سندھ حکومت کے مالیاتی معاملات
وفاقی وزیر نے کہا ایم کیو ایم نے حکومت میں شامل ہونے کیلئے شرائط رکھی تھیں، ایم کیو ایم نے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی شرط رکھی، سندھ حکومت کو 15 سال میں 22 ہزار ارب روپے ملے ہیں، 22 ہزار ارب روپے میں سے 11 ہزار ارب روپے کراچی کے تھے، 11 ہزار ارب میں سے کیا 11 ارب بھی کراچی میں لگے؟
کراچی کی صورتحال
خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ کراچی کو مہارت سے گھٹنوں پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وفاقی حکومت سے مدد مانگی لیکن سندھ حکومت رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔








