پی ٹی آئی کو پاکستان مخالف بیانیہ بنا کر سیاست نہیں کرنے دیں گے، ایم کیو ایم پاکستان
گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا بیان
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو پاکستان مخالف بیانیہ بنا کر سیاست نہیں کرنے دیں گے، جب انکوائری کی جائے گی تو سب کیلئے مسئلہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا میں مسجد کے سروے کے دوران چار افراد ہلاک: مسلمانوں کو یکطرفہ نشانہ بنایا گیا، ہم میں پولیس کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں
پی ٹی آئی کے بیانیے پر تنقید
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موجودہ بیانیہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے برطانیہ میں ملک کے خلاف باتیں کی گئیں، پی ٹی آئی کی جانب سے کی گئی باتیں تشویشناک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا سینئر سیاستدان زعیم قادری کے انتقال پر اظہار افسوس
اوورسیز پاکستانیوں کے والدین کی ذمہ داری
گورنر سندھ نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں، اوورسیز پاکستانی اپنے بچوں کو ایسے پروپیگنڈے سے دور رکھیں، پی ٹی آئی بیانیہ دفن ہوگیا، اب یہ اوورسیز پاکستانیوں کو ورغلا رہے ہیں، فیلڈ مارشل کو قتل کی دھمکیاں برداشت نہیں کریں گے، جو پاکستان کے خلاف بیانیہ بنائیں گے ہم اس کے خلاف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہم اپنے بھائی پاکستان کے جائز مؤقف پر مضبوطی سے کھڑے ہیں
پی ٹی آئی کے رویے پر مزید تبصرہ
کامران ٹیسوری نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا نفرت انگیز بیانیہ زیادہ دیر نہیں چلے گا، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں، پی ٹی آئی کے کارکنوں کو بانی سے لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ امریکہ، ان کے استقبال کے لیے کیا تیاریاں کی گئی ہیں؟ ویڈیوز سامنے آگئیں۔
خالد مقبول صدیقی کا موقف
چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان و وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ گورنر سندھ نے ایک اہم مسئلے پر توجہ دلائی ہے، پی ٹی آئی کا موجودہ لب و لہجہ کبھی کسی نے نہیں اپنایا، پی ٹی آئی کو شخصیت سے بالاتر ہو کر وطن کیلئے کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا چوہدری عامر حبیب کی والدہ کے انتقال پر اظہار افسوس
سندھ حکومت کے مالیاتی معاملات
وفاقی وزیر نے کہا ایم کیو ایم نے حکومت میں شامل ہونے کیلئے شرائط رکھی تھیں، ایم کیو ایم نے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی شرط رکھی، سندھ حکومت کو 15 سال میں 22 ہزار ارب روپے ملے ہیں، 22 ہزار ارب روپے میں سے 11 ہزار ارب روپے کراچی کے تھے، 11 ہزار ارب میں سے کیا 11 ارب بھی کراچی میں لگے؟
کراچی کی صورتحال
خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ کراچی کو مہارت سے گھٹنوں پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وفاقی حکومت سے مدد مانگی لیکن سندھ حکومت رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔








