مظفر گڑھ میں ٹیچرز اور طالبات کی فحش ویڈیوز بنانے کا سکینڈل، مدعیہ نے اپنے ساتھ زیادتی نہ ہونے کا بیان دیدیا
مظفرگڑھ اسکول ٹیچرز اور طالبات کا اسکینڈل
مظفر گڑھ (ڈیلی پاکستان آن لائن) مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں اسکول ٹیچرز اور طالبات کی فحش ویڈیو بنانے کے اسکینڈل میں مدعیہ نے اپنے ساتھ زیادتی نہ ہونے کا بیان دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ سوات کی انکوائری رپورٹ سامنے آ گئی، پولیس کی غفلت اور کوتاہیوں کا انکشاف
مدعیہ کا نیا بیان
مرکزی ملزم ہدایت علی رضوی سے مدعیہ شازیہ کوثر نے بھاری رقم لے کر اپنے ساتھ زیادتی نہ ہونے کا بیان دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پارٹی رہنماوں کے ایک دوسرے پر الزامات، عمران خان نے وارننگ دیدی
قانونی کارروائی
راضی نامہ دینے پر پولیس کی مدعیت میں خاتون کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ ایس ایچ او بھی تبدیل ہوگیا تاہم ملزمہ فرار ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ہونے والی تنقید کو مسترد کر دیا
پولیس کا موقف
پولیس کے مطابق مدعیہ شازیہ کوثر نے ملزم سے بھاری رقم وصول کر کے عدالت میں زیادتی نہ ہونے کا بیان دے دیا تھا۔ ہدایت رضوی کے خلاف مقدمہ اس کے والد نے درج کروایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کابینہ کا اجلاس، اہم فیصلے، ’’بینک آف بلوچستان‘‘ کے قیام کی اصولی منظوری دیدی
عدالتی کارروائی
متاثرہ نے بیان دیا کہ کوئی زیادتی نہیں ہوئی اور عدالت نے ملزم کی ضمانت کنفرم کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کی وزارت اعلیٰ ڈانوا ڈول ہے ، رہائی فورس نوکری پکی کرنے کے لئے شعبدہ بازی ہے،خواجہ آصف
ڈی پی او کا بیان
ترجمان ڈی پی او مظفرگڑھ کے مطابق ملزم سے ساز باز، بھاری رقم لینے اور وقوعہ سے منحرف ہونے پر تھانہ سٹی علی پور میں مقدمہ درج کر دیا۔ ڈی پی او مظفرگڑھ نے ایس ایچ او الیاس خان کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔
ملزمہ کی تلاش
پولیس کے مطابق ملزمہ فرار ہوگئی جبکہ ایک دوسرے مقدمے میں ہدایت رضوی تاحال عبوری ضمانت پر ہے۔








