پی ٹی آئی کو انتہا پسندی چھوڑ کر سیاست کے دائرے میں آنا چاہئے: بلاول بھٹو
معاشی اور سیاسی چیلنجز کا حل
لاڑکانہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز کا حل انتہا پسندی نہیں بلکہ مفاہمت اور سیاسی استحکام میں ہے۔ پی ٹی آئی کو انتہا پسندانہ طرزِ سیاست ترک کر کے جمہوری حدود میں واپس آنا چاہئے کیونکہ حقیقی ترقی اور استحکام اسی راستے سے ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دو دہشتگرد سوات میں سفارتکاروں کے قافلے پر حملے میں مارے گئے
پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی اہمیت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو اپنے معاشی بحران اور مالی گنجائش کے مسائل حل کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کو ترجیح دینی چاہئے۔ اگر وفاقی حکومت معاشی بحران کو مؤثر انداز میں ایڈریس کرنا چاہتی ہے، تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے حج پروازوں کی منسوخی کی خبروں کو مسترد کردیا
سندھ حکومت کے کامیاب ماڈل سے سیکھنے کی ضرورت
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور سندھ حکومت کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی کامیابیوں سے سیکھنا چاہیے۔ سندھ حکومت کا یہ ماڈل نہ صرف مؤثر ثابت ہوا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے پذیرائی ملی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 20 کلو آٹے کا تھیلا 400 روپے مہنگا
بینظیر بھٹو کی برسی پر شکریہ
چیئرمین پیپلز پارٹی نے بتایا کہ سندھ حکومت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو معروف عالمی جریدے اکانومسٹ میگزین نے خطے میں چھٹا نمبر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو شہید کی 18ویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش آ کر وقت دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
سیاسی جماعتوں کا مشترکہ ماحول پیدا کرنا
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی راستے نکالنے چاہئیں۔ اگر تمام سیاسی قوتیں مل کر ایسا ماحول بنائیں جس سے سیاست کے لیے مزید گنجائش پیدا ہو، تو یہ پاکستان اور عوام کے مفاد میں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے وزیراعلیٰ مریم نواز کلائمیٹ لیڈرشپ ڈویلپمنٹ انٹرن شپ پروگرام کا آغاز ہوگیا
انتہا پسندی کے نقصانات
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر سیاست انتہا پسندی کی جائے گی تو اس کے ردعمل میں سختی پر شکایت نہیں ہونی چاہئے۔ کسی گرفتاری یا قانونی کارروائی کے ردعمل میں قومی اداروں پر حملے درست نہیں ہیں۔
پی ٹی آئی کی رہنمائی
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان کی تجاویز کے مطابق، پی ٹی آئی کو انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے کر اپنی سیاست کو جمہوری دائرے میں واپس لے آنا چاہیے۔ یہ فیصلہ پی ٹی آئی، اس کے کارکنوں اور ملک کی مجموعی جمہوری سیاست کے لیے بہتر ہوگا اور اس کے مثبت اثرات پورے پاکستان پر پڑیں گے۔








