ایس پی شہر بانو نقوی نے ڈاکٹر علی زین کے سنگین الزامات کی تردید کردی
ڈاکٹر علی زین العابدین کا الزام
لاہور(ڈیلی پاکستان آ ن لائن) لاہور کے ایک ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام لگایا ہے کہ پولیس آفیسر شہر بانو نقوی نے مجھ سے زبردستی لاکھوں روپے مریضہ کو دلوائے جبکہ خاتون پولیس افسر نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی سیاسی صورتحال، وزیراعظم شہبازشریف نے بیرون ملک جانے کا پروگرام ملتوی کردیا
پولیس افسر کی تردید
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور کے ڈاکٹر علی زین نے ایس پی شہر بانو نقوی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، تاہم ایس پی شہر بانو نے ڈاکٹر کے ہراساں کرنے کے الزامات کی تردید کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ساتھ جاری تنازعے کے دوران ایرانی پارلیمنٹ نے بڑا قدم اٹھا لیا
مریضہ کی سرجری کا معاملہ
ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام لگایا کہ پولیس آفیسر شہر بانو نقوی نے مجھ سے زبردستی لاکھوں روپے مریضہ کو دلوائے۔ اپریل میں مریضہ کی آنکھ کی لیزر سرجری کی گئی، جو کہ بالکل ٹھیک تھی۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے سیریز میں شاندار کامیابی،کپتان محمد رضوان کا بیان بھی سامنے آ گیا
پولیس کی کارروائی
ڈاکٹر علی زین العابدین نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے کہا کہ آپریشن ٹھیک نہیں کیا، آپ مریضہ کو پیسے دیں تاکہ وہ اپنا آپریشن کسی اور جگہ سے کروائیں۔
یہ بھی پڑھیں: قلات میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشتگرد ہلاک
منتقلی کی رقم کا ذکر
ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام لگاتے ہوئے بتایا کہ اے ایس پی ڈیفنس شہر بانو نقوی نے کال کر پولیس سٹیشن بلایا تھا، شہر بانو نقوی نے کہا کہ مریضہ کا آپریشن آپ نے غلط کیا ہے، اسے آپریشن کے پیسے واپس کئے جائیں۔ مریضہ پہلے ہی میرے کلینک میں آکر زور زبردستی سے چار لاکھ روپے کی رقم لے چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کے اولین سمارٹ گلاسز آئندہ سال متعارف کرائے جانے کا امکان
چیک کی فراہمی
ڈاکٹر نے بتایا کہ مریضہ نے حالانکہ آنکھوں کی لیزر سرجری کے لئے مجھے صرف ڈیڑھ لاکھ روپے دئیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف سی ہیڈ کوارٹرز خودکش دھماکا: تینوں حملہ آوروں کے افغان شہری ہونے کی تصدیق
پولیس کے دباؤ کی تفصیل
ڈاکٹر علی زین العابدین نے شہر بانو نقوی کو بتایا کہ میں پہلے ہی رقم دے چکا ہوں، جس پر اس نے کہا کہ آپ رقم دوبارہ دیں۔ پولیس کے زور زبردستی کرنے پر میں نے مزید دس لاکھ روپے کے تین چیکس مریضہ کے حوالے کردئیے، تین میں سے ایک چیک کیش بھی ہوچکا ہے، مزید دو چیکس رکوانے کے لئے میری لیگل ٹیم نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی و معاشی استحکام کے لیے قومی سطح پر مکالمہ کی ضرورت ہے، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
مزید الزامات
ڈاکٹر نے بتایا کہ خاتون پولیس کی زور زبردستی کی وجہ سے مجھ سے اب تک ساڑھے سات لاکھ روپے لے چکی ہے، خاتون کا پولیس کے ساتھ انتہائی قریبی تعلق معلوم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونیوالے عام انتخابات میں کتنے امیدوار حصہ لیں گے؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
پولیس اسٹیشن کی بلاوا
ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام لگایا کہ شہر بانو نقوی نے مجھے پولیس اسٹیشن بلوانے کے لئے ایس ایچ او خرم کو میرے کلینک بھی بھیجا تھا، ایس ایچ او نے میرے گارڈ کو بھی غیرقانونی طور پر کلینک سے لے کر حوالات میں بند کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد خودکش حملہ، امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت
ڈاکٹر کا قانونی موقف
ڈاکٹر علی زین العابدین نے کہا کہ پولیس بغیر میڈیکل رپورٹ کے یا میڈیکل بورڈ کے فیصلہ کے بغیر کسی بھی ڈاکٹر کو پولیس اسٹیشن نہیں بلوا سکتی تھی، پولیس کس حیثیت سے یہ فیصلہ کرسکتی ہے کہ ڈاکٹر نے آپریشن ٹھیک کیا یا نہیں، یہ فیصلہ کرنے کے لئے ان کے پاس کون سے ڈگریاں دستیاب ہیں، کسی بھی آپریشن کے درست ہونے کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرتا ہے، پولیس افیسر نہیں کرتا ہے۔
ایس پی کا جواب
دوسری جانب ایس پی شہر بانو نقوی نے تشدد اور ہراساں کرنے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر علی زین میرے دفتر ایک بار آئے تھے، ڈاکٹر علی زین کو مریضہ سے معاملات طے کرنے کا کہا تھا، ڈاکٹر علی زین سے نہ ہی بدتمیزی ہوئی نہ تشدد کیا گیا۔








