ایس پی شہر بانو نقوی نے ڈاکٹر علی زین کے سنگین الزامات کی تردید کردی
ڈاکٹر علی زین العابدین کا الزام
لاہور(ڈیلی پاکستان آ ن لائن) لاہور کے ایک ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام لگایا ہے کہ پولیس آفیسر شہر بانو نقوی نے مجھ سے زبردستی لاکھوں روپے مریضہ کو دلوائے جبکہ خاتون پولیس افسر نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمایوں سعید کو رومانوی کے بجائے منفی کرداروں کی طرف جانا چاہئے، ماہرہ خان
پولیس افسر کی تردید
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور کے ڈاکٹر علی زین نے ایس پی شہر بانو نقوی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، تاہم ایس پی شہر بانو نے ڈاکٹر کے ہراساں کرنے کے الزامات کی تردید کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی طرف سے سکھ یاتریوں کو پاکستان نہ آنے دینا تکلیف دہ ہے، صوبائی وزیر رمیش سنگھ اروڑہ
مریضہ کی سرجری کا معاملہ
ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام لگایا کہ پولیس آفیسر شہر بانو نقوی نے مجھ سے زبردستی لاکھوں روپے مریضہ کو دلوائے۔ اپریل میں مریضہ کی آنکھ کی لیزر سرجری کی گئی، جو کہ بالکل ٹھیک تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بارکھان میں کرش پلانٹ پر مسلح افراد کی فائرنگ، 3 مزدور اغوا، پولیس چوکی پر بھی حملہ
پولیس کی کارروائی
ڈاکٹر علی زین العابدین نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے کہا کہ آپریشن ٹھیک نہیں کیا، آپ مریضہ کو پیسے دیں تاکہ وہ اپنا آپریشن کسی اور جگہ سے کروائیں۔
یہ بھی پڑھیں: شدید زلزلہ کی شدت 6.8، عوام خوف سے سڑکوں پر نکل آئے۔
منتقلی کی رقم کا ذکر
ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام لگاتے ہوئے بتایا کہ اے ایس پی ڈیفنس شہر بانو نقوی نے کال کر پولیس سٹیشن بلایا تھا، شہر بانو نقوی نے کہا کہ مریضہ کا آپریشن آپ نے غلط کیا ہے، اسے آپریشن کے پیسے واپس کئے جائیں۔ مریضہ پہلے ہی میرے کلینک میں آکر زور زبردستی سے چار لاکھ روپے کی رقم لے چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی فورسز کا قلات میں آپریشن، بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشت گرد جہنم واصل
چیک کی فراہمی
ڈاکٹر نے بتایا کہ مریضہ نے حالانکہ آنکھوں کی لیزر سرجری کے لئے مجھے صرف ڈیڑھ لاکھ روپے دئیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ سے بچاؤ کیلئے مصنوعی بارش کے انتظامات مکمل،50 سے 70 لاکھ خرچ آئیگا، مریم اورنگزیب
پولیس کے دباؤ کی تفصیل
ڈاکٹر علی زین العابدین نے شہر بانو نقوی کو بتایا کہ میں پہلے ہی رقم دے چکا ہوں، جس پر اس نے کہا کہ آپ رقم دوبارہ دیں۔ پولیس کے زور زبردستی کرنے پر میں نے مزید دس لاکھ روپے کے تین چیکس مریضہ کے حوالے کردئیے، تین میں سے ایک چیک کیش بھی ہوچکا ہے، مزید دو چیکس رکوانے کے لئے میری لیگل ٹیم نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راشد خان ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر بن گئے
مزید الزامات
ڈاکٹر نے بتایا کہ خاتون پولیس کی زور زبردستی کی وجہ سے مجھ سے اب تک ساڑھے سات لاکھ روپے لے چکی ہے، خاتون کا پولیس کے ساتھ انتہائی قریبی تعلق معلوم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلا ون ڈے، پاکستان کا سری لنکا کو جیت کے لیے 300 رنز کا ہدف
پولیس اسٹیشن کی بلاوا
ڈاکٹر علی زین العابدین نے الزام لگایا کہ شہر بانو نقوی نے مجھے پولیس اسٹیشن بلوانے کے لئے ایس ایچ او خرم کو میرے کلینک بھی بھیجا تھا، ایس ایچ او نے میرے گارڈ کو بھی غیرقانونی طور پر کلینک سے لے کر حوالات میں بند کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری کیس: جسٹس آغا فیصل کا سماعت سے انکار
ڈاکٹر کا قانونی موقف
ڈاکٹر علی زین العابدین نے کہا کہ پولیس بغیر میڈیکل رپورٹ کے یا میڈیکل بورڈ کے فیصلہ کے بغیر کسی بھی ڈاکٹر کو پولیس اسٹیشن نہیں بلوا سکتی تھی، پولیس کس حیثیت سے یہ فیصلہ کرسکتی ہے کہ ڈاکٹر نے آپریشن ٹھیک کیا یا نہیں، یہ فیصلہ کرنے کے لئے ان کے پاس کون سے ڈگریاں دستیاب ہیں، کسی بھی آپریشن کے درست ہونے کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرتا ہے، پولیس افیسر نہیں کرتا ہے۔
ایس پی کا جواب
دوسری جانب ایس پی شہر بانو نقوی نے تشدد اور ہراساں کرنے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر علی زین میرے دفتر ایک بار آئے تھے، ڈاکٹر علی زین کو مریضہ سے معاملات طے کرنے کا کہا تھا، ڈاکٹر علی زین سے نہ ہی بدتمیزی ہوئی نہ تشدد کیا گیا۔








