مہمانوں کی گفتگو ختم ہونے اور چائے کے بعد سٹیزن کونسل میں جنرل راحت لطیف نے ستیاپال جی کے ساتھ کشمیر کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 261
یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ: اسرائیلی وزیراعظم عوام کا اعتماد کھونے لگے، مقبولیت میں تیزی سے کمی
دہلی سے ستیا پال جی کی آمد
ایک مرتبہ دہلی سے ستیا پال جی دو ہربل ماہرین کے ہمراہ میرے ہاں سٹیزن کونسل کے احباب سے شوگر و بلڈ پریشر کا علاج اور ہربل ادویات کے بارے میں محو گفتگو تھے۔ مہمانوں کی گفتگو ختم ہونے اور چائے وغیرہ پینے کے بعد سٹیزن کونسل میں ہمارے سینئر ساتھی جنرل راحت لطیف نے ستیا پال جی کے ساتھ کشمیر کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: شرح سود میں کمی کا امکان، فیصلہ 31 جولائی کو ہوگا
گفتگو میں تکرار
کچھ دیر میں دونوں کے درمیان تکرار بڑھتی گئی۔ راقم نے مداخلت کر کے اور یہ کہتے ہوئے بیچ بچاؤ کروایا کہ آج ہم یہاں کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے نہیں بیٹھے ہیں۔ آپس کے اختلافی مسائل کے حل کے لیے ہمیں ضرور سوچ بچار کرنی چاہیے، انشا اللہ ہم آئندہ کسی مناسب موقع کے لیے اٹھائے رکھتے ہیں۔ اس طرح دونوں طرف سے مکمل سیزفائر ہو گیا اور ہم معزز مہمانوں کے ساتھ دوبارہ خوش گپیوں کی طرف لوٹ آئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک ملاقات کا سوال ہے بابا
جنرل راحت لطیف کی تعریف
جنرل راحت لطیف بعدازاں متعدد مواقع پر میری ڈپلومیسی اور فراست کی تعریف کرتے نظر آئے۔
یہ بھی پڑھیں: تھائی لینڈ میں مہلک وائرس سے چند ہفتوں میں 72 ٹائیگر ہلاک
بھارتی سول سوسائٹی وفد کی تقریب
بھارت سے آئے ہوئے سول سوسائٹی کے وفد کے اعزاز میں پاکستان سٹیزن کونسل کی جانب سے عشائیہ دیا گیا۔ عشائیے سے بھارتی وفد کے قائد ستیا پال جی نے خطاب کرتے ہوئے تجویز کیا کہ بھارت اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پانی کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کی دھمکی پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی کا مؤقف بھی آ گیا
سندھ طاس معاہدہ پر نظرثانی
جس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 1960 ء میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ جو 50 سال پرانا ہو چکا ہے، اُس پر نئے تقاضوں کے مطابق نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام بھارت سے آزادی نہیں بلکہ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شیخوپورہ: کاشتکار نے بیوی کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی
یو۔ این۔ او کی قراردادیں
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہا جاتا ہے بھارت نے یو۔ این۔ او کی قراردادوں پر عمل نہ کر کے کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے اِن قراردادوں پر عمل نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بونڈائی بیچ حملہ، زندہ بچ جانے والے ملزم نوید اکرم پر 59 الزامات عائد کردیے گئے۔
دوستی کا معاہدہ
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ کا ایک حل یہ ہے کہ دونوں ممالک دوستی کا معاہدہ کر لیں۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور حکومت کی کفایت شعاری مہم، کالم نویس خالد مسعود خان نے ساری کہانی بے نقاب کردی
پاکستان سٹیزن کونسل کے صدر کا خطاب
تقریب ہذا سے اپنے خطاب میں پاکستان سٹیزن کونسل کے صدر رانا امیر احمد خاں نے کہا کہ کشمیریوں کے تمام مسائل اُسی وقت حل ہوں گے جب یو۔ این۔ او کی قراردادوں پر عمل ہو گا، تو کشمیری خود ہی فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ شامل ہونا ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کے لیے کشمیری عوام کو رائے شماری کا حق دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بھی تیز ہواؤں کے ساتھ بارش
حاضرین
اس موقع پر ظفر علی راجا، پروفیسر نصیر چوہدری، پروفیسر مشکور احمد صدیقی، پروفیسر جمیل نجم، ارشاد چودھری، منور سلطانہ بٹ، جہانگر جھوجہ ایڈووکیٹ، ایم اکرم، چوہدری نیک محمد اور چوہدری رمضان میو بھی موجود تھے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








