مہمانوں کی گفتگو ختم ہونے اور چائے کے بعد سٹیزن کونسل میں جنرل راحت لطیف نے ستیاپال جی کے ساتھ کشمیر کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 261
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا میں دہشتگردی کے الزام میں ایک اور افغان شہری گرفتار، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد
دہلی سے ستیا پال جی کی آمد
ایک مرتبہ دہلی سے ستیا پال جی دو ہربل ماہرین کے ہمراہ میرے ہاں سٹیزن کونسل کے احباب سے شوگر و بلڈ پریشر کا علاج اور ہربل ادویات کے بارے میں محو گفتگو تھے۔ مہمانوں کی گفتگو ختم ہونے اور چائے وغیرہ پینے کے بعد سٹیزن کونسل میں ہمارے سینئر ساتھی جنرل راحت لطیف نے ستیا پال جی کے ساتھ کشمیر کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی نے کراچی کی نوکریوں پر قبضہ کر رکھا ہے، شہر کو لوٹ مار سے آزاد کرائیں گے: حافظ نعیم
گفتگو میں تکرار
کچھ دیر میں دونوں کے درمیان تکرار بڑھتی گئی۔ راقم نے مداخلت کر کے اور یہ کہتے ہوئے بیچ بچاؤ کروایا کہ آج ہم یہاں کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے نہیں بیٹھے ہیں۔ آپس کے اختلافی مسائل کے حل کے لیے ہمیں ضرور سوچ بچار کرنی چاہیے، انشا اللہ ہم آئندہ کسی مناسب موقع کے لیے اٹھائے رکھتے ہیں۔ اس طرح دونوں طرف سے مکمل سیزفائر ہو گیا اور ہم معزز مہمانوں کے ساتھ دوبارہ خوش گپیوں کی طرف لوٹ آئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار
جنرل راحت لطیف کی تعریف
جنرل راحت لطیف بعدازاں متعدد مواقع پر میری ڈپلومیسی اور فراست کی تعریف کرتے نظر آئے۔
یہ بھی پڑھیں: قیدی سے ملاقات حال احوال کے لیے ہوتی ہے اگر اس سے انتشار اور تلخی بڑھے تو ریاست اور حکومت سخت فیصلے کرے گی،امیر حیدر ہوتی۔
بھارتی سول سوسائٹی وفد کی تقریب
بھارت سے آئے ہوئے سول سوسائٹی کے وفد کے اعزاز میں پاکستان سٹیزن کونسل کی جانب سے عشائیہ دیا گیا۔ عشائیے سے بھارتی وفد کے قائد ستیا پال جی نے خطاب کرتے ہوئے تجویز کیا کہ بھارت اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پانی کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرشنگ نہ کرنے والی ملوں کے خلاف آج سے ایکشن ہوگا: کین کمشنر پنجاب
سندھ طاس معاہدہ پر نظرثانی
جس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 1960 ء میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ جو 50 سال پرانا ہو چکا ہے، اُس پر نئے تقاضوں کے مطابق نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام بھارت سے آزادی نہیں بلکہ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت دورے پر آئے مشہور فٹبالر میسی کے ذاتی طیارے کی حیران کن قیمت سامنے آگئی
یو۔ این۔ او کی قراردادیں
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہا جاتا ہے بھارت نے یو۔ این۔ او کی قراردادوں پر عمل نہ کر کے کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے اِن قراردادوں پر عمل نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شام کی حکومت گرانے والے ابو محمد الجولانی کون ہیں؟
دوستی کا معاہدہ
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ کا ایک حل یہ ہے کہ دونوں ممالک دوستی کا معاہدہ کر لیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بھارتی کرکٹر شبمن گل اور سارہ ٹنڈولکر نے اپنی راہیں جدا کر لیں؟ بھارتی میڈیا میں ہنگامہ برپا
پاکستان سٹیزن کونسل کے صدر کا خطاب
تقریب ہذا سے اپنے خطاب میں پاکستان سٹیزن کونسل کے صدر رانا امیر احمد خاں نے کہا کہ کشمیریوں کے تمام مسائل اُسی وقت حل ہوں گے جب یو۔ این۔ او کی قراردادوں پر عمل ہو گا، تو کشمیری خود ہی فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ شامل ہونا ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کے لیے کشمیری عوام کو رائے شماری کا حق دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی حکومت کا فیصلہ کرکٹ بورڈ پر بھاری پڑ گیا، آن لائن گیمنگ بل کے بعد 358 کروڑ روپے کا اسپانسرشپ معاہدہ ختم کرنا پڑا۔
حاضرین
اس موقع پر ظفر علی راجا، پروفیسر نصیر چوہدری، پروفیسر مشکور احمد صدیقی، پروفیسر جمیل نجم، ارشاد چودھری، منور سلطانہ بٹ، جہانگر جھوجہ ایڈووکیٹ، ایم اکرم، چوہدری نیک محمد اور چوہدری رمضان میو بھی موجود تھے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








