مہمانوں کی گفتگو ختم ہونے اور چائے کے بعد سٹیزن کونسل میں جنرل راحت لطیف نے ستیاپال جی کے ساتھ کشمیر کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 261
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات میں جو طے پایا وہ عمران خان بھی تسلیم کریں گے ، حکومت نے شرط رکھ دی
دہلی سے ستیا پال جی کی آمد
ایک مرتبہ دہلی سے ستیا پال جی دو ہربل ماہرین کے ہمراہ میرے ہاں سٹیزن کونسل کے احباب سے شوگر و بلڈ پریشر کا علاج اور ہربل ادویات کے بارے میں محو گفتگو تھے۔ مہمانوں کی گفتگو ختم ہونے اور چائے وغیرہ پینے کے بعد سٹیزن کونسل میں ہمارے سینئر ساتھی جنرل راحت لطیف نے ستیا پال جی کے ساتھ کشمیر کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی محتسب کی ہدایت پر لیسکوسے شکایات کے بارے میں کھلی کچہری ، سائلین نے شکایات کے انبار لگا دئیے
گفتگو میں تکرار
کچھ دیر میں دونوں کے درمیان تکرار بڑھتی گئی۔ راقم نے مداخلت کر کے اور یہ کہتے ہوئے بیچ بچاؤ کروایا کہ آج ہم یہاں کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے نہیں بیٹھے ہیں۔ آپس کے اختلافی مسائل کے حل کے لیے ہمیں ضرور سوچ بچار کرنی چاہیے، انشا اللہ ہم آئندہ کسی مناسب موقع کے لیے اٹھائے رکھتے ہیں۔ اس طرح دونوں طرف سے مکمل سیزفائر ہو گیا اور ہم معزز مہمانوں کے ساتھ دوبارہ خوش گپیوں کی طرف لوٹ آئے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں پائلٹس کا بحران پیدا ہو گیا، سینکڑوں پروازیں منسوخ
جنرل راحت لطیف کی تعریف
جنرل راحت لطیف بعدازاں متعدد مواقع پر میری ڈپلومیسی اور فراست کی تعریف کرتے نظر آئے۔
یہ بھی پڑھیں: شیطانی میڈیا اور کلٹ کے خلاف سپہ سالار نے دل جیت لیے
بھارتی سول سوسائٹی وفد کی تقریب
بھارت سے آئے ہوئے سول سوسائٹی کے وفد کے اعزاز میں پاکستان سٹیزن کونسل کی جانب سے عشائیہ دیا گیا۔ عشائیے سے بھارتی وفد کے قائد ستیا پال جی نے خطاب کرتے ہوئے تجویز کیا کہ بھارت اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پانی کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ کا سرکاری ملازمین کے تبادلوں سے متعلق اہم فیصلہ
سندھ طاس معاہدہ پر نظرثانی
جس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 1960 ء میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ جو 50 سال پرانا ہو چکا ہے، اُس پر نئے تقاضوں کے مطابق نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام بھارت سے آزادی نہیں بلکہ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی طیارے ترک فضائی حدود میں داخل ہوئے توان سے کیسا سلوک ہوا۔ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔
یو۔ این۔ او کی قراردادیں
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہا جاتا ہے بھارت نے یو۔ این۔ او کی قراردادوں پر عمل نہ کر کے کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے اِن قراردادوں پر عمل نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کلائمیٹ فنانسنگ کی مد میں پاکستان کو 20 کروڑ ڈالر زجاری کیے جائیں گے
دوستی کا معاہدہ
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ کا ایک حل یہ ہے کہ دونوں ممالک دوستی کا معاہدہ کر لیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ اور یورپی ممالک کو بھی بحرانی کیفیت کا سامنا، برطانیہ میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا
پاکستان سٹیزن کونسل کے صدر کا خطاب
تقریب ہذا سے اپنے خطاب میں پاکستان سٹیزن کونسل کے صدر رانا امیر احمد خاں نے کہا کہ کشمیریوں کے تمام مسائل اُسی وقت حل ہوں گے جب یو۔ این۔ او کی قراردادوں پر عمل ہو گا، تو کشمیری خود ہی فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ شامل ہونا ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کے لیے کشمیری عوام کو رائے شماری کا حق دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: Both SSPs Must Present Progress Reports or Face Arrest Warrants: Islamabad High Court Remarks in Recovery Case
حاضرین
اس موقع پر ظفر علی راجا، پروفیسر نصیر چوہدری، پروفیسر مشکور احمد صدیقی، پروفیسر جمیل نجم، ارشاد چودھری، منور سلطانہ بٹ، جہانگر جھوجہ ایڈووکیٹ، ایم اکرم، چوہدری نیک محمد اور چوہدری رمضان میو بھی موجود تھے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








