پنجاب پروٹیکشن اونر شپ ایکٹ: معاملے کو سیاسی کرنا ضروری ہے کیا؟ لاہور ہائیکورٹ
لاہورہائیکورٹ کے ریمارکس
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل زمان خان نے پنجاب پروٹیکشن اونر شپ ایکٹ کے متعلق درخواست پر ریمارکس دیئے کہ کیا اس معاملے کو سیاسی کرنا ضروری ہے؟
یہ بھی پڑھیں: جڑواں شہروں میں دفعہ 144 میں ایک بار پھر توسیع
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب پروٹیکشن اونرشپ ایکٹ 2025 کے خلاف آئینی درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس فیصل زمان خان نے درخواست چھٹیوں کے بعد متعلقہ بینچ کے روبرو لگانے کی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی ایک ناکام بغاوت تھی، اس کے کردار کسی رعایت کے مستحق نہیں: عظمیٰ بخاری
عدالت کا موقف
دورانِ سماعت جسٹس فیصل زمان خان نے وکیل اظہر صدیق سے کہا کہ کیا اس معاملے کو سیاسی کرنا ضروری ہے، اتنی ٹرولنگ کے باوجود عدالت نے اس معاملے کو اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی ائیر شو میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں کے پاکستانی پویلین کے دوران پاکستانی پائلٹس کی جانب سے چائے کی پیش کش
پی ٹی آئی ایم پی ایز کے بارے میں سوالات
جسٹس فیصل زمان خان نے مزید کہا کہ آپ نے دو پی ٹی آئی کے ایم پی ایز کو لے کر درخواست دائر کی، کیا ان ایم پی ایز نے اسمبلی میں اس ایکٹ کے خلاف تقریر کی؟ یہ اسمبلی میں تو بولے نہیں اور یہاں درخواست دائر کردی۔
یہ بھی پڑھیں: امید ہے پاک بھارت سیز فائر مستقل طور پر ہوگا، ترک صدر
درخواست کی سیاسی نوعیت
عدالت نے کہا کہ آپ نے اپنی پٹیشن فیس بک پر بھی لگا دی ہے، اس معاملے کو سیاست زدہ نہ کریں، یہ معاملہ غریب شہریوں کی پراپرٹیوں کا ہے، آپ اس درخواست کے ذریعے حکومت کو فائدہ دے رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: فرح گوگی اور شوہر کے خلاف سرکاری زمین فروخت کرنے پر ایک اور مقدمہ درج
وکیل کی ضرورت اور افسوس
عدالت نے درخواست دائر کرنے والے وکیل اظہر صدیق سے مزید کہا کہ آپ کو اپنی درخواست کو واپس لینا چاہئے، آپ کسی متاثرہ شخص کی جانب سے درخواست دائر کرتے تو سمجھ آتی، آپ کی اس درخواست پر بہت افسوس ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد؛ پولیس مقابلے کے دوران گینگ میں شامل 4 سگے بھائی مارے گئے
اظہر صدیق کی درخواست کا موقف
اظہر صدیق کی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جائیداد سے متعلق اختیارات انتظامیہ کو دے کر آئین کی خلاف ورزی کی گئی، ڈسپیوٹ ریزولیشن کمیٹی میں فریقین کو وکیل کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت نہیں۔
پی ٹی آئی کے اراکین کی تشویش
پی ٹی آئی کے اراکین نے درخواست میں کہا ہے کہ سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کرنا آئین سے متصادم اقدام ہے، ایگزیکٹو اور عدالتی اختیارات کو یکجا کرنا عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے، استدعا کی گئی ہے کہ پراپرٹی اونرشپ ایکٹ اور اس کے تحت ہونے والے اقدامات کالعدم قرار دیے جائیں۔








