بچوں کی کہانی ۔۔۔ایماندار گلہری
ننھی گلہری رونی کی کہانی
ایک ہرے بھرے اور خوبصورت جنگل میں ایک ننھی سی گلہری رہتی تھی۔ اس کا نام رونی تھا۔ رونی کا گھر ایک اونچے درخت کے تنے میں تھا۔ وہ ہر صبح جلدی اٹھتی، درختوں پر اچھلتی کودتی اور خوشی خوشی گریاں جمع کرتی۔
یہ بھی پڑھیں: داؤدی بوہرہ مسلم کمیونٹی کے 53 ویں روحانی پیشوا سے قونصل جنرل حسین محمد سے ملاقات، عید کی مبارک باد دی
ایمانداری کا سبق
رونی بہت محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ایماندار بھی تھی۔ وہ کبھی کسی کی چیز بغیر اجازت نہیں لیتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف آج تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کا امکان
سکّہ کی دریافت
ایک دن جب وہ گریاں جمع کر رہی تھی تو اچانک اسے گھاس میں چمکتی ہوئی کوئی چیز نظر آئی۔ قریب جا کر دیکھا تو وہ سونے کا سکہ تھا۔ رونی بہت حیران ہوئی اور دل ہی دل میں بولی، “یہ تو بہت قیمتی چیز ہے، مگر یہ میرا نہیں ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: پارٹی بڑی تحریک کی تیاری کرے، ساری زندگی جیل میں رکھ لیں نہیں جھکوں گا، عمران خان
جنگل کے دوستوں کی مدد
اس نے سکہ اٹھایا اور پورے جنگل میں گھوم کر خرگوش، ہرن، طوطے اور بندر سے پوچھا، “کیا یہ سکہ تمہارا ہے؟” مگر سب نے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغان معیشت کی تباہی اور شدید بے روزگاری، اقوام متحدہ کی حیران کن کاؤنٹر فنانسنگ ٹیررازم رپورٹ منظر عام پر آ گئی
دانا الو کی رہنمائی
آخرکار رونی دانا اور بوڑھے الو کے پاس گئی جو بڑے درخت پر رہتا تھا۔ الو نے پوری بات سن کر مسکرا کر کہا، “رونی! تم بہت ایماندار ہو۔ تم نے سچائی کا راستہ اپنایا ہے، اس لیے یہ سکہ اب تمہارا انعام ہے。”
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا لاؤڈ سپیکر ایکٹ مزید سخت کرنے کا فیصلہ
سب کی بھلائی کے لئے استعمال
رونی خوش تو ہوئی، مگر اس نے سوچا کہ وہ یہ سکہ سب کی بھلائی کے لیے استعمال کرے گی۔ اس نے سکے سے جنگل کے جانوروں کے لیے اناج اور پھل خریدے۔ جب سب جانوروں نے یہ دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کرنے والا ملزم ساتھی سمیت گرفتار
دوستی اور شکریہ
سب نے مل کر رونی کا شکریہ ادا کیا اور اسے اپنا بہترین دوست بنا لیا۔ رونی کا دل خوشی سے بھر گیا۔
سبق
پیارے بچو، ہمیں اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ زندگی میں ایماندار رہنا چاہیے، کسی کی چیز پر قبضہ نہیں جمانا چاہیے اور ہر امانت اس کے مال تک پہنچانی چاہیے۔
نوٹ: یہ مصنفہ کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
اگر آپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس '[email protected]' یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








