کرسمس پر توڑ پھوڑ، بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و ستم نہایت تشویشناک ہے: دفتر خارجہ
پاکستان کی وزارت خارجہ کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھارت میں کرسمس پر توڑ پھوڑ کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و ستم نہایت تشویشناک امر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں خاتون نے آشنا کے ساتھ مل کر بیٹی کو قتل کردیا
حملوں کی مذمت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت میں کرسمس کے موقع پر توڑ پھوڑ کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرسمس کے موقع پر ایسے واقعات ریاستی سرپرستی میں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: سوچیں، ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو کیا ہوچکا ہوتا؟ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو
مسلمانوں کے خلاف مظالم
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ ان تمام واقعات سے مسلمانوں میں خوف اور بیگانگی کا احساس مزید گہرا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ایرانی اور روسی سفیروں کی اہم ملاقات
عالمی برادری کی توجہ
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری کو اقلیتوں پر ظلم و ستم کے واقعات کا نوٹس لینا چاہئے، اور بھارت میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: خاتون سے گاڑی چھیننے کی ویڈیو سامنے آگئی، ملزمان گرفتار
بھارتی میڈیا کی رپورٹیں
خیال رہے کہ بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ 25 دسمبر کو بھارت کے مختلف حصوں میں کرسمس کی تقریبات کو ہندوتوا سے منسلک انتہا پسند عناصر کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ متعدد مقامات پر مسیحی برادری کی مذہبی تقریبات میں مداخلت کی گئی اور سجاوٹ کو نقصان پہنچایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان ہائی کورٹ نے 22 اے اور 22 بی کے اختیارات کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو دینے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا
تفصیلات
ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق ریاست آسام کے ضلع نلباڑی میں واقع سینٹ میری سکول میں توڑ پھوڑ کی گئی جبکہ پانیگاؤں میں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد سے منسلک افراد پر تشدد اور ہنگامہ آرائی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی خان: ڈیرہ جات جیپ ریلی نادر مگسی نے جیت لی
مزید واقعے
چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں میگنیٹو مال میں کرسمس کے موقع پر کی گئی سجاوٹ کو نقصان پہنچایا گیا، اور ریاست کیرالہ کے ضلع پالکّاڈ میں بچوں کے کرسمس کیرول گروپ پر حملے کی بھی اطلاع دی گئی ہے، جس کا الزام ایک آر ایس ایس کارکن پر عائد کیا جا رہا ہے۔
تشویش کا اظہار
ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلم اور مسیحی برادری کے خلاف پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے بارے میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے.








