کرسمس پر توڑ پھوڑ، بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و ستم نہایت تشویشناک ہے: دفتر خارجہ
پاکستان کی وزارت خارجہ کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھارت میں کرسمس پر توڑ پھوڑ کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و ستم نہایت تشویشناک امر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوستوں کا ذکر: انداز مستانہ یا ذکر دیوانہ
حملوں کی مذمت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت میں کرسمس کے موقع پر توڑ پھوڑ کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرسمس کے موقع پر ایسے واقعات ریاستی سرپرستی میں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کا آج (منگل) کا دن ستاروں کی روشنی میں کیسا رہے گا؟
مسلمانوں کے خلاف مظالم
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ ان تمام واقعات سے مسلمانوں میں خوف اور بیگانگی کا احساس مزید گہرا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت خزانہ کی آئی ایم ایف سے ریلیف لینے کی تیاری، منی بجٹ نہ لانے کا فیصلہ
عالمی برادری کی توجہ
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری کو اقلیتوں پر ظلم و ستم کے واقعات کا نوٹس لینا چاہئے، اور بھارت میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: گاڑی ڈرائیور سے بے قابو ہوکر ہوٹل میں گھس گئی، ایک شخص جاں بحق
بھارتی میڈیا کی رپورٹیں
خیال رہے کہ بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ 25 دسمبر کو بھارت کے مختلف حصوں میں کرسمس کی تقریبات کو ہندوتوا سے منسلک انتہا پسند عناصر کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ متعدد مقامات پر مسیحی برادری کی مذہبی تقریبات میں مداخلت کی گئی اور سجاوٹ کو نقصان پہنچایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب کا خطرہ، رحیم یارخان میں 12 فلڈ ریلیف کیمپ قائم، 7ہزار آبادی کا انخلاء
تفصیلات
ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق ریاست آسام کے ضلع نلباڑی میں واقع سینٹ میری سکول میں توڑ پھوڑ کی گئی جبکہ پانیگاؤں میں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد سے منسلک افراد پر تشدد اور ہنگامہ آرائی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عورت کو اتنا خود مختار بنانا چاہیئے کہ وہ مرد کے چلے جانے کے بعد بھی زندگی گزار سکے:احسن خان
مزید واقعے
چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں میگنیٹو مال میں کرسمس کے موقع پر کی گئی سجاوٹ کو نقصان پہنچایا گیا، اور ریاست کیرالہ کے ضلع پالکّاڈ میں بچوں کے کرسمس کیرول گروپ پر حملے کی بھی اطلاع دی گئی ہے، جس کا الزام ایک آر ایس ایس کارکن پر عائد کیا جا رہا ہے۔
تشویش کا اظہار
ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلم اور مسیحی برادری کے خلاف پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے بارے میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے.








