فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر کم سن بچوں کو نیا ہدف بنا رہے ہیں : وزیر داخلہ سندھ
دہشت گردوں کی کوششیں
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی محمد آزاد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ایک بچی کو دہشت گرد تنظیمیں خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر کم سن بچوں کو اپنا نیا ہدف بنا رہے ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے معصوم ذہنوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ باغبانپورہ ٹریفک حادثے کے متاثرین کے گھر پہنچ گئیں
بچی کی حفاظت
سندھ کے وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس مخصوص واقعہ میں کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک نیٹ ورک نے ایک کم عمر بلوچ بچی کو ورغلا کر خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے نہ صرف بچی کی جان بچائی گئی بلکہ کراچی بھی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: اگلے پانچ برس کے دوران پاکستان اور چین کن شعبوں میں مل کر کام کریں گے؟ آپ بھی جانیے
سوشل میڈیا کا خطرہ
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بچی سے رابطہ کیا گیا، دہشت گردوں کی جانب سے کہانیاں سنائی گئیں اور اس بچی کی ذہن سازی کی گئی۔ کوشش کی ہے کہ اس بچی کے اہلخانہ اور ایڈریس کو سامنے نہ لایا جائے، حکومت ان کی بہتری کے لیے انتظام اور مدد کرے گی یہ ہماری ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے پاکستان کا 3سال کا فارمولا ماننے سے انکار کردیا،ڈیڈلاک برقرار
دہشت گردوں کا جھوٹا بیانیہ
وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے، یہ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے اسٹیٹ کے خلاف جھوٹا بیانیہ بناتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر نظر رکھیں۔ بلوچ عوام کو اس طرح کی دہشت گرد تنظیموں پر نظر رکھنی چاہیے۔ بروقت کارروائی سے ہم نے اس بچی کو بچا لیا، اور ہماری پوری کوشش ہے کہ بچی دوبارہ سے اپنی تعلیم کا سلسلہ شروع کرے۔
دہشتگردی کی بدترین شکل
’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق وزیر داخلہ سندھ نے اس واقعے کو واضح ثبوت قرار دیا کہ کالعدم تنظیمیں خواتین اور کم عمر بچیوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔ خودکش حملہ نہ اسلام میں جائز ہے، نہ انسانیت میں اور نہ ہی بلوچ روایات میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔ کم عمر بچیوں کو موت کی طرف دھکیلنا دہشت گردی کی بدترین شکل اور کھلا انسانی استحصال ہے۔








