خیبرپختونخوا میں مارخور ٹرافی ہنٹ پر وفاق اور صوبے کے درمیان تنازع برقرار
پشاور میں مارخور ٹرافی ہنٹ کا مسئلہ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا میں مارخور ٹرافی ہنٹ کا معاملہ تاحال حل نہ ہوسکا ہے، جہاں مارخور، آئی بیکس اور گرے گورال کے شکار کے نان ایکسپورٹیبل کوٹے پر وفاقی حکومت اور صوبائی محکمہ وائلڈ لائف کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11 کے لیے لاہور قلندرز نے حارث رؤف اور فخر زمان کو ریلیز کر دیا
وفاقی حکومت کی پابندی
چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف نے سیکریٹری محکمہ جنگلات خیبرپختونخوا کو لکھے گئے خط میں بتایا ہے کہ وفاقی حکومت نے اجازت لئے بغیر نان ایکسپورٹیبل شکار پر پابندی عائد کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرے اثاثے جو آج ہیں وہ وزرات عظمیٰ کے بعد بھی دیکھ لیجیے گا، نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور
شکار کی اجازت اور کوٹہ
ہم نیوز کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2024 میں کوہستان اور چترال میں نان ایکسپورٹیبل کوٹے کے تحت 6 مارخور کے شکار کی اجازت دی گئی تھی، جس پر محکمہ وائلڈ لائف نے عملدرآمد کرتے ہوئے کوٹہ مقرر کیا۔ تاہم وفاقی ادارہ سائٹس مینجمنٹ اتھارٹی کی حالیہ پابندی گزشتہ فیصلے سے متصادم ہے کیونکہ مارخور، آئی بیکس اور گرے گورال کے غیر برآمدی کوٹے کی پہلے ہی منظوری دی جاچکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش نے 1971 کے بعد پہلی بار پاکستانی حکام کے لیے ویزا کی شرط ختم کردی
صوبائی حکومت کی پوزیشن
چیف کنزرویٹر کے مطابق نان ایکسپورٹیبل ٹرافی ہنٹنگ صوبائی دائرہ اختیار میں آتی ہے اور اس حوالے سے صوبائی حکومت کی پوزیشن مکمل طور پر درست ہے۔ خط میں انکشاف کیا گیا کہ صوبائی حکومت 10 مارخور، 31 آئی بیکس اور 6 گرے گورال کے شکار کی نیلامی مکمل کرچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئی نیٹ میٹرنگ پالیسی تیار، کابینہ کی منظوری کا انتظار ہے، وزیر توانائی
مالی فوائد اور سیاحت
رواں سیزن میں 9 مارخور کے نان ایکسپورٹیبل پرمٹس کی کامیاب بولی لگی، جس سے 5 لاکھ 53 ہزار امریکی ڈالر آمدن ہوئی۔ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ غیربرآمدی شکار کے کوٹے پر اعتراضات ملک کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ صوبے میں مارخور کی آبادی 6 ہزار 222، آئی بیکس 2 ہزار 920 اور گرے گورال کی تعداد 394 ہے، جو شکار کے لیے پیش کی گئی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔
سیکریٹری جنگلات کی رائے
دوسری جانب سیکریٹری محکمہ جنگلات خیبرپختونخوا جنید خان نے کہا کہ معاملہ قانون کے مطابق وفاقی اداروں کے ساتھ حل کیا جائے گا۔ کے پی میں جنگلی جانور مطلوبہ معیار سے زائد تعداد میں موجود ہیں اور موجودہ سیزن میں مارخور پرمٹس سے ساڑھے 5 لاکھ ڈالر سے زائد آمدن ہوئی، جو پہاڑی علاقوں کی ترقی پر خرچ کی جائے گی۔








