سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی
فیض حمید کی اپیل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے گریٹر اقبال پارک سے 10 سالہ معذور بچے کے اغوا کی کوشش ناکام، ملزمہ گرفتار
قانونی نمائندگی
ہم نیوز کے مطابق ان کے وکیل میاں علی اشفاق نے غیر ملکی جریدے عرب نیوز کو بتایا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے خلاف قانونی اپیل متعلقہ فورم پر جمع کرا دی گئی ہے، تاہم اپیل کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے پاکستان کا اسکواڈ سری لنکا روانہ
سزا کی تفصیلات
فیض حمید کو 11 دسمبر کو فوجی عدالت نے چار الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 14 برس قیدِ سخت کی سزا سنائی تھی۔ ان پر سرکاری راز افشا کرنے، سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دیگر افراد کو نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کے لیے قانونی مسودے کا خاکہ تیار کرلیا
اپیل کا عمل
پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت سزا کے بعد 40 دن کے اندر اپیل دائر کرنے کی مہلت ہوتی ہے، جس کے بعد معاملہ کورٹ آف اپیلز میں جاتا ہے۔ اپیل کا ابتدائی جائزہ میجر جنرل یا اس سے اعلیٰ رینک کے افسر کی سربراہی میں لیا جاتا ہے، جبکہ آرمی چیف کو سزا برقرار رکھنے، کم کرنے یا کالعدم قرار دینے کا اختیار حاصل ہے۔ ماضی میں فوجی اپیلوں کا عمل کئی برس تک جاری رہنے کی مثالیں موجود ہیں۔
عدالتی کارروائی کی مدت
آئی ایس پی آر کے مطابق فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی اگست 2024 میں شروع ہوئی تھی جو 15 ماہ تک جاری رہی۔ فوجی ترجمان نے یہ بھی کہا تھا کہ بعض سیاسی سرگرمیوں سے متعلق معاملات کو الگ سے دیکھا جا رہا ہے۔ بیان میں انہیں ’’سابق لیفٹیننٹ جنرل‘‘ قرار دیا گیا تھا، جس سے ان کے عہدے سے محرومی کا تاثر ملا، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔








