سینیٹر سرمد علی کا دوسرے کراچی فیسٹیول آف بکس اینڈ لائبریریز میں مطالعے کے فروغ پر زور
سینیٹر سرمد علی کا خطاب
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹر سرمد علی، چیئرمین سینیٹ لائبریری کمیٹی، نے پیر کے روز کراچی میں منعقدہ دوسرے کراچی فیسٹیول آف بکس اینڈ لائبریریز 2025 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قومی ترقی میں کتب اور کتب خانوں کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی خواتین وارڈ کے انتہائی محفوظ سیل میں ہیں ، اڈیالہ جیل انتظامیہ
فیسٹیول کی تفصیلات
دو روزہ فیسٹیول کا انعقاد کراچی فیسٹیول آف بکس اینڈ لائبریریز کے تحت کیا جا رہا ہے، جبکہ افتتاحی تقریب کی میزبانی فیسٹیول کے بانیان، سینئر صحافی عزیز میمن اور سید خالد محمود نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایم پی ایز اور ایم این ایز نہیں چاہتے کہ ادارے بااختیار ہوں کیونکہ ان کی چوہدراہٹ پر آنچ آتی ہے، جبکہ بیوروکریسی عیاشی چھوڑ کر عوامی خدمت کرنے کو تیار نہیں ہے۔
مطالعہ کی اہمیت
اپنے خطاب میں سینیٹر سرمد علی نے اسلام کے بنیادی پیغام “اقرأ” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مطالعہ اور تعلیم ایک ترقی پسند معاشرے کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا، "کتب اور کتب خانوں کو زندہ ادارے سمجھا جانا چاہیے، جنہیں مسلسل توجہ، بہتری اور تنظیمِ نو کی ضرورت ہوتی ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: ورلڈکپ سکواڈ میں شامل نہ کیا گیا تو یہ یقیناً مایوس کن ہوگا، تاہم یہ اپنے کیریئر کا اختتام نہیں سمجھتا، حارث روف
مطالعے کے زوال پر تشویش
مطالعے کے زوال پذیر رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "بدقسمتی سے کتب خانوں کو وہ توجہ نہیں دی گئی جس کے وہ مستحق تھے، جس کے باعث ملک میں مطالعے کا رجحان بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: میں نے اپنا آخری پیغام لکھ لیا تھا اور۔۔’ طوفان میں پھنسی پی آئی اے کی پرواز میں سوار عدنان صدیقی کا حیران کن انکشاف
ماضی کی روایات کا ذکر
ماضی کو یاد کرتے ہوئے سینیٹر نے کہا، "ایک وقت تھا جب ہر محلے میں چھوٹے کتب خانے موجود ہوتے تھے، مگر یہ روایت اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ حرا مانی کا دلہن بن کر رقص، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کے رجحانات
انہوں نے اشاعتی رجحانات میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "ماضی میں کتابوں کے کم از کم تین ہزار نسخے شائع کیے جاتے تھے، جبکہ آج یہ تعداد کم ہو کر تقریباً تین سو رہ گئی ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر احتجاج کیس؛ پی ٹی آئی کے گرفتار 86 کارکنان کی ضمانت منظور
امید کی کرن
تاہم، مطالعے کے فروغ کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کراچی انٹرنیشنل بک فیئر کا حوالہ دیا، جہاں تقریباً پانچ لاکھ افراد نے شرکت کی، جو عوامی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے ملک میں نیشنل لائبریری ڈے یا نیشنل بک ریڈنگ ڈے منانے کی تجویز بھی دی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق چیف جسٹس میاں محبوب احمد سے 2 ملاقاتیں کیں اور انہیں مجوزہ تھنک ٹینک کی رہنمائی کی درخواست کی، انہوں نے مسرت کا اظہار کیا
جدید ٹیکنالوجیز اور کتابیں
اس موقع پر انہوں نے کہا، "اگرچہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت کی جانب بڑھ رہی ہے، تاہم ہمیں اپنی بنیادوں یعنی کتابوں سے جڑے رہنا ہوگا اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو بھی فروغ دینا ہوگا۔"
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے جوڈیشل کمیشن کا حصہ بننے کی منظوری دے دی
اختتامی اقوال
سینیٹر سرمد علی نے اپنے خطاب کے اختتام پر البرٹ آئن اسٹائن کا قول نقل کیا، "واحد چیز جو آپ کو لازماً معلوم ہونی چاہیے، وہ آپ کی لائبریری کا مقام ہے۔"
تقریب میں شرکاء
تقریب میں عزیز میمن، سید خالد محمود، سیکرٹری نیشنل بک فاؤنڈیشن مراد علی مومن، نیشنل لائبریری آف پاکستان کے نمائندے حسنین شاہ، عظیم قریشی اور محبوب شاہ نے شرکت کی۔ فیسٹیول کے دوران دو روز تک کتابوں کے اسٹالز اور ادبی نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا.








