راولپنڈی کے تھانہ دھمیال کے محرر حسنین رضا پر علاقہ مکینوں کے شہریوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا اور رشوت لینے کے سنگین الزامات
خلاف ورزیوں کے الزامات
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) تھانہ دھمیال راولپنڈی کے محرر حسنین رضا پر قبضہ مافیا کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ، شہریوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے، غیر قانونی حراست اور منشیات فروشوں کی سرپرستی جیسے نہایت سنگین الزامات سامنے آگئے۔
یہ بھی پڑھیں: کینگرو کورٹس سے سزاؤں کی مذمت کرتے ہیں، ہائبرڈ نظام پاکستان میں اپوزیشن کا خاتمہ چاہتا ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر
ناجائز سرگرمیاں
ذرائع کے مطابق محرر حسنین رضا، محمد آصف ولد ایوب نامی شخص جسے قبضہ مافیا کا مبینہ سرغنہ قرار دیا جا رہا ہے کے ساتھ مل کر شہریوں کو دھمکاتا ہے اور ناجائز مقدمات کی دھمکی دے کر انہیں حوالات میں بند رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں کی طرف سے کوڈ کاپٹر کا استعمال لیکن اسے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ ویڈیو تجزیہ
بے گناہ شہری کی گرفتاری
ذرائع کے مطابق حال ہی میں ایک بے گناہ شہری کو دھوکے کے ساتھ تھانے بلا کر مکمل طور پر غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا جسے بعدازاں، عدالت نے فوری ڈسچارج کر دیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عدالت سے رہائی کے باوجود متعلقہ محرر حسنین رضا اور اس کے مبینہ ساتھیوں کی جانب سے دباؤ، دھمکیوں اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: جائیداد کی خاطر 2 سوتیلے بھائیوں کو قتل کرکے لاشیں گھر میں دفنانے والا ملزم گرفتار
خطرات کا سامنا
شہریوں کا دعویٰ ہے کہ جو بھی شخص ان غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے، اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ محرر حسنین رضا پر علاقے میں سرگرم منشیات فروشوں سے مبینہ روابط اور تعلقات کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جس پر اہل علاقہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان الزامات میں اخلاق نذیر نامی اہلکار کا نام بھی شامل ہے جس پر شہریوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
متعلقہ حکام سے مطالبات
اہل علاقہ نے آئی جی پنجاب، آر پی او راولپنڈی اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام سے فوری طور پر نوٹس لینے، شفاف انکوائری کرانے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔








