آئی ایم ایف کا لوکل ہائبرڈ الیکٹریکل گاڑیوں، بائیکس پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ
آئی ایم ایف کا سیلز ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں مقامی سطح پر تیار کی جانے والی ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں اور بائیکس پر دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد دلادیا، مودی اب کسی حملے سے پہلے 100بار سوچے گا، وزیر اعظم شہباز شریف
آئندہ مالی سال کے لیے مطالبات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال سے ان گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم کر کے 18 فیصد کی سٹینڈرڈ شرح کے مطابق سیلز ٹیکس عائد کرنے پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی اے ایف مسرور بیس پر حملے کی بڑی سازش ناکام بنادی گئی
موجودہ قوانین اور رعایتیں
دستاویزات کے مطابق اس وقت لوکل مینوفیکچرڈ ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کو سیلز ٹیکس کے آٹھویں شیڈول کے تحت ٹیکس چھوٹ حاصل ہے، تاہم آئی ایم ایف نے وزارتِ صنعت و پیداوار کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اس رعایت کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش نے 1971 کے بعد پہلی بار پاکستانی حکام کے لیے ویزا کی شرط ختم کردی
آئی ایم ایف کا نیا ٹیکس رجیم
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر تیار ہائبرڈ گاڑیوں اور بائیکس کو آٹھویں شیڈول سے نکال کر نارمل ٹیکس رجیم میں شامل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کرکٹر رشبھ پنت کی سابقہ گرل فرینڈ اور بالی ووڈ اداکارہ اروشی روٹیلا نے پیغام جاری کردیا
سیلز ٹیکس کی موجودہ شرحیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت 1800 سی سی تک مقامی سطح پر تیار کی گئی ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 8.5 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے، جبکہ 1801 سی سی سے 2500 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز کو ہٹانے، بلاول کو لانے کیلئے ایوان صدر میں خفیہ ملاقاتیں ہورہی ہیں: بیرسٹر سیف
مستقبل میں سیلز ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لوکل مینوفیکچرڈ ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز کو 30 جون 2026 تک سیلز ٹیکس میں چھوٹ حاصل ہے، تاہم آئندہ مالی سال سے یہ چھوٹ ختم ہوگی۔
صارفین اور آٹو انڈسٹری پر اثرات
آئی ایم ایف کی جانب سے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کے مطالبے کی صورت میں آئندہ مالی سال سے ہائبرڈ گاڑیوں اور بائیکس کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے صارفین کے ساتھ ساتھ مقامی آٹو انڈسٹری بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔








