یمن میں سعودی فضائی حملے پر امارات کا رد عمل آگیا
متحدہ عرب امارات کا سعودی عرب کے بیان پر ردعمل
ابوظبی(ڈیلی پاکستان آن لائن) متحدہ عرب امارات نے یمن کی موجودہ صورتحال سے متعلق سعودی عرب کے حالیہ بیان پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں یو اے ای کے کردار سے متعلق سنگین غلط بیانی کی گئی ہے۔ اماراتی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ یمن کے فریقین کے درمیان کشیدگی میں یو اے ای کا نام گھسیٹنا ناقابلِ قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں رسگلے نہ ملنے پر شادی کی تقریب میدان جنگ بن گئی
سعودی عرب کی سلامتی کی حفاظت
وزارت خارجہ کے مطابق، یہ تاثر سراسر غلط ہے کہ امارات نے کسی یمنی فریق کو سعودی عرب کی سلامتی یا سرحدوں کو نشانہ بنانے کے لیے دباؤ ڈالا یا ہدایتیں دیں۔ یو اے ای ہمیشہ سعودی عرب کی سلامتی اور قومی سلامتی کے تحفظ کو اپنی ترجیح سمجھتا ہے اور ایسے اقدامات کی مخالف ہے جو سعودی عرب یا پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیر کا انوکھا کارنامہ، شدید گرمی میں کمبل بانٹ دئیے
کشیدگی کم کرنے کی کوششیں
حضرموت اور المہرا میں صورتحال کے آغاز سے ہی یو اے ای کا مؤقف کشیدگی کم کرنے، حالات کو قابو میں رکھنے اور امن و استحکام کے لیے مفاہمتی راستے اپنانے کا رہا ہے۔ یہ تمام اقدامات سعودی عرب کے ساتھ قریبی رابطے میں کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: احساس شرمندگی ہمارے معاشرے میں عام ہے، یہ ایک ایسا روایتی ہتھیار ہے جس کے ذریعے دوسرے افراد کا استحصال کیا جاتا ہے اور محض وقت کا ضیاع ہے.
مکلا بندرگاہ پر کارروائی
یو اے ای نے مکلا بندرگاہ پر ہونے والی فوجی کارروائی کے بارے میں اتحاد کے فوجی ترجمان کے بیان پر شدید اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان اتحاد کے رکن ممالک کے ساتھ مشاورت کے بغیر جاری کیا گیا تھا۔
امارات نے وضاحت کی کہ جس کھیپ کا ذکر ہو رہا ہے، اس میں کسی قسم کے ہتھیار شامل نہیں تھے اور یہ گاڑیاں یمن میں موجود اماراتی افواج کے استعمال کے لیے تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا فلسطینیوں کے قتل میں برابر کا شریک ہے: حافظ نعیم الرحمان
سعودی عرب کے ساتھ رابطہ
وزارت کے مطابق ان گاڑیوں کے حوالے سے سعودی عرب کے ساتھ اعلیٰ سطح پر رابطہ اور اتفاق موجود تھا کہ یہ گاڑیاں بندرگاہ سے باہر نہیں نکالی جائیں گی۔ اس کے باوجود، مکلا بندرگاہ پر انہیں نشانہ بنانا یو اے ای کے لیے حیران کن تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شہید ذوالفقار علی بھٹو نے آئین کی تیاری اور منظوری میں تعمیری کردار ادا کیا ، وزیر اعظم
یمن میں اماراتی موجودگی
یو اے ای نے بیان میں زور دیا کہ یمن میں اس کی موجودگی یمنی حکومتِ شرعیہ کی دعوت پر اور سعودی قیادت میں قائم عرب اتحاد کے تحت ہے۔ اس کا مقصد آئینی حکومت کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے، اور یو اے ای نے اس دوران بھاری قربانیاں دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی حملے پر وزیر دفاع کا بیان آگیا
حالیہ پیش رفت کا تجزیہ
وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ حالیہ پیش رفت کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اعلیٰ سطح کے تعاون، تحمل اور دانشمندی کی اشد ضرورت ہے۔
ذمہ دارانہ رویے کی ضرورت
یو اے ای نے کہا کہ حالیہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ناگزیر ہے تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہو۔ تمام فیصلے مستند حقائق اور موجودہ رابطہ کاری کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں تاکہ یمن میں سیاسی حل، امن اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔








