عظمیٰ بخاری کا اپوزیشن لیڈر کے خلاف ہتک عزت کے الزامات پر قانونی کارروائی کا اعلان
عظمیٰ بخاری کی صحافیوں سے یکجہتی
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کا پورے میڈیا کو ’’بکاؤ‘‘ کہنا ان کی بکاؤ ذہنیت کی عکاسی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو صحافی اپوزیشن کے حق میں بات کرے اسے صحافی تسلیم کیا جائے، لیکن باقی صحافیوں کی خدمات کو نظرانداز یا کمتر قرار دینا ناقابلِ قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آدھی پی ٹی آئی انقلاب چاہتی ہے اور آدھی مذاکرات، فواد چوہدری
قانونی کارروائی کا اعلان
وزیر اطلاعات نے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی سے واک آؤٹ کیا اور اعلان کیا کہ اپوزیشن لیڈر کے خلاف ہتک عزت کے الزامات کے سلسلے میں ڈیفمیشن ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بڑھتی ہوئی سموگ میں سانس لینا مشکل، متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو بڑی پیشکش کردی
پنجاب اسمبلی میں واقعات
پنجاب اسمبلی کے باہر صحافیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقعات نے پوری دنیا کو دکھا دیا کہ اپوزیشن کو بولنے کی عادت تو ہے، مگر سننے کی برداشت نہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے مہمانوں کی فہرست باقاعدہ طور پر جمع کروائی گئی، لیکن اس کے باوجود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے ساتھ ایسے غیر متعلقہ افراد اور یوٹیومرز کو ساتھ لائے جن کا اسمبلی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان دہشتگردی کے خاتمے پر متفق، اچھے تعلقات کی امید ہے: وزیر دفاع
دھکے اور تشدد کی مذمت
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے اندر صحافیوں کو دھکے دیئے گئے، مارا پیٹا گیا، گالم گلوچ کی گئی اور اُنہیں اپنے فرائض کی ادائیگی سے روکا گیا۔ افسوس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے میڈیا اور صحافیوں کو ‘بکاؤ’ قرار دے کر اپنی اخلاقی دیوالیہ پن کی مہر ثبت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے ایک تیر سے دو شکار، بلاول غیر پارلیمانی قوتوں کو بھی آن بورڈ لینے کے خواہاں لیکن آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ حامد میر کھل کر بول پڑے
سوال پوچھنے کا حق
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پنجاب اسمبلی کے صحافیوں اور پریس گیلری کے ساتھ بدسلوکی ناقابلِ قبول ہے، اسی لیے بطور اظہارِ یکجہتی وہ ایوان سے واک آؤٹ کر گئیں۔ انہوں نے کہا کہ سوال پوچھنا صحافت کا حق ہے، اور جو حق برداشت نہ کرے وہ سوال نہیں، صرف تالیاں چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے کارکنوں نے علی امین گنڈا پور کو کہیں بھی جانے سے روک دیا
لسانیت کا کارڈ کھیلنے کی مذمت
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میڈیا سے معافی مانگنے کے بجائے اپوزیشن نے پشتون شناخت کو ڈھال بنا کر لسانیت کا کارڈ کھیلنے کی کوشش کی، حالانکہ بات کسی قومیت کی نہیں، رویئے کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا بس اور رکشہ کے تصادم میں 7 افراد کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس
بے بنیاد الزامات کا جواب
وزیر اطلاعات نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات پر قانونی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے بے بنیاد الزام لگایا کہ میں نے ’’پِیڈ صحافی‘‘ بھیجے، اب وہ یہ الزام عدالت میں ثابت کریں۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر راج مارشل لا کی شکل نہیں،یہ آئینی عمل ہے، سرکاری افراد پر حملہ کرنا غیرآئینی ہے، اعظم نذیر تارڑ
جمہوری اقدار پر گفتگو
انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوال سے اتنی تکلیف ہے تو جواب دینا سیکھیں۔ میڈیا پر حملے، بدزبانی، اور صحافیوں کے خلاف مہم چلانا سیاست نہیں، کم ظرفی ہے۔
آزاد میڈیا کی حمایت
آخر میں وزیر اطلاعات نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ آزاد میڈیا پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ پنجاب اسمبلی صحافیوں پر تشدد کرنے والوں کی آماجگاہ نہیں بن سکتی۔








