عظمیٰ بخاری کا اپوزیشن لیڈر کے خلاف ہتک عزت کے الزامات پر قانونی کارروائی کا اعلان

عظمیٰ بخاری کی صحافیوں سے یکجہتی

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کا پورے میڈیا کو ’’بکاؤ‘‘ کہنا ان کی بکاؤ ذہنیت کی عکاسی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو صحافی اپوزیشن کے حق میں بات کرے اسے صحافی تسلیم کیا جائے، لیکن باقی صحافیوں کی خدمات کو نظرانداز یا کمتر قرار دینا ناقابلِ قبول ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کاضلع خیبر کے علاقے باغ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ، سرغنہ بتور سمیت 4خوارج جہنم واصل ،3 زخمی

قانونی کارروائی کا اعلان

وزیر اطلاعات نے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی سے واک آؤٹ کیا اور اعلان کیا کہ اپوزیشن لیڈر کے خلاف ہتک عزت کے الزامات کے سلسلے میں ڈیفمیشن ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: انڈس واٹر کمیشن نے بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تفصیلات حکومت کو بھجوا دیں

پنجاب اسمبلی میں واقعات

پنجاب اسمبلی کے باہر صحافیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقعات نے پوری دنیا کو دکھا دیا کہ اپوزیشن کو بولنے کی عادت تو ہے، مگر سننے کی برداشت نہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے مہمانوں کی فہرست باقاعدہ طور پر جمع کروائی گئی، لیکن اس کے باوجود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے ساتھ ایسے غیر متعلقہ افراد اور یوٹیومرز کو ساتھ لائے جن کا اسمبلی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم نے ٹی ٹوئنٹی میں روہت شرما کا سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ توڑ دیا

دھکے اور تشدد کی مذمت

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے اندر صحافیوں کو دھکے دیئے گئے، مارا پیٹا گیا، گالم گلوچ کی گئی اور اُنہیں اپنے فرائض کی ادائیگی سے روکا گیا۔ افسوس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے میڈیا اور صحافیوں کو ‘بکاؤ’ قرار دے کر اپنی اخلاقی دیوالیہ پن کی مہر ثبت کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں پھر بارش، کازوے اور کورنگی ندی کی سڑکیں ٹریفک کے لیے بند

سوال پوچھنے کا حق

وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پنجاب اسمبلی کے صحافیوں اور پریس گیلری کے ساتھ بدسلوکی ناقابلِ قبول ہے، اسی لیے بطور اظہارِ یکجہتی وہ ایوان سے واک آؤٹ کر گئیں۔ انہوں نے کہا کہ سوال پوچھنا صحافت کا حق ہے، اور جو حق برداشت نہ کرے وہ سوال نہیں، صرف تالیاں چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت کے درمیان نافذ العمل معاہدوں کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش

لسانیت کا کارڈ کھیلنے کی مذمت

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میڈیا سے معافی مانگنے کے بجائے اپوزیشن نے پشتون شناخت کو ڈھال بنا کر لسانیت کا کارڈ کھیلنے کی کوشش کی، حالانکہ بات کسی قومیت کی نہیں، رویئے کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کی فیملی پر سیاسی بیانات کا الزام لگا کر اڑھائی ماہ سے ملاقات پر پابندی لگانا آئین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جنید اکبر خان

بے بنیاد الزامات کا جواب

وزیر اطلاعات نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات پر قانونی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے بے بنیاد الزام لگایا کہ میں نے ’’پِیڈ صحافی‘‘ بھیجے، اب وہ یہ الزام عدالت میں ثابت کریں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں 9 مئی کے اہم مقدمات سماعت کیلئے مقرر

جمہوری اقدار پر گفتگو

انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوال سے اتنی تکلیف ہے تو جواب دینا سیکھیں۔ میڈیا پر حملے، بدزبانی، اور صحافیوں کے خلاف مہم چلانا سیاست نہیں، کم ظرفی ہے۔

آزاد میڈیا کی حمایت

آخر میں وزیر اطلاعات نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ آزاد میڈیا پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ پنجاب اسمبلی صحافیوں پر تشدد کرنے والوں کی آماجگاہ نہیں بن سکتی۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...