عظمیٰ بخاری کا اپوزیشن لیڈر کے خلاف ہتک عزت کے الزامات پر قانونی کارروائی کا اعلان
عظمیٰ بخاری کی صحافیوں سے یکجہتی
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کا پورے میڈیا کو ’’بکاؤ‘‘ کہنا ان کی بکاؤ ذہنیت کی عکاسی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو صحافی اپوزیشن کے حق میں بات کرے اسے صحافی تسلیم کیا جائے، لیکن باقی صحافیوں کی خدمات کو نظرانداز یا کمتر قرار دینا ناقابلِ قبول ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیش لیس معیشت سے گورننس میں بہتری اور کرپشن میں کمی آئے گی: وزیراعظم
قانونی کارروائی کا اعلان
وزیر اطلاعات نے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی سے واک آؤٹ کیا اور اعلان کیا کہ اپوزیشن لیڈر کے خلاف ہتک عزت کے الزامات کے سلسلے میں ڈیفمیشن ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: میں اپنی بیٹی سے ڈرتی ہوں، وہ مجھے واپس تھپڑ بھی مار دے گی، بھارتی اداکارہ رانی مکھرجی
پنجاب اسمبلی میں واقعات
پنجاب اسمبلی کے باہر صحافیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقعات نے پوری دنیا کو دکھا دیا کہ اپوزیشن کو بولنے کی عادت تو ہے، مگر سننے کی برداشت نہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے مہمانوں کی فہرست باقاعدہ طور پر جمع کروائی گئی، لیکن اس کے باوجود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے ساتھ ایسے غیر متعلقہ افراد اور یوٹیومرز کو ساتھ لائے جن کا اسمبلی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی کا اجلاس 26 جنوری کو بلانے کا فیصلہ
دھکے اور تشدد کی مذمت
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے اندر صحافیوں کو دھکے دیئے گئے، مارا پیٹا گیا، گالم گلوچ کی گئی اور اُنہیں اپنے فرائض کی ادائیگی سے روکا گیا۔ افسوس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے میڈیا اور صحافیوں کو ‘بکاؤ’ قرار دے کر اپنی اخلاقی دیوالیہ پن کی مہر ثبت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کا حل عسکری نہیں سیاسی ہے، مصنوعی قیادت مخدوش صورتحال کے بنفیشری ہے اس لئے وہ سیاسی حل کے بجائے عسکری حل کے قائل ہے، حافظ حمداللہ
سوال پوچھنے کا حق
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پنجاب اسمبلی کے صحافیوں اور پریس گیلری کے ساتھ بدسلوکی ناقابلِ قبول ہے، اسی لیے بطور اظہارِ یکجہتی وہ ایوان سے واک آؤٹ کر گئیں۔ انہوں نے کہا کہ سوال پوچھنا صحافت کا حق ہے، اور جو حق برداشت نہ کرے وہ سوال نہیں، صرف تالیاں چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے مالیاتی پالیسی کا اعلان کردیا
لسانیت کا کارڈ کھیلنے کی مذمت
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میڈیا سے معافی مانگنے کے بجائے اپوزیشن نے پشتون شناخت کو ڈھال بنا کر لسانیت کا کارڈ کھیلنے کی کوشش کی، حالانکہ بات کسی قومیت کی نہیں، رویئے کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کے بحری جہازوں پر مشتمل فلوٹیلا کا بیرون ملک تعیناتی کے دوران عمان کا دورہ
بے بنیاد الزامات کا جواب
وزیر اطلاعات نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات پر قانونی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے بے بنیاد الزام لگایا کہ میں نے ’’پِیڈ صحافی‘‘ بھیجے، اب وہ یہ الزام عدالت میں ثابت کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں اسرائیلی اور امریکہ کے حملوں کے دوران 550 شہری جاں بحق ہوئے ہیں
جمہوری اقدار پر گفتگو
انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوال سے اتنی تکلیف ہے تو جواب دینا سیکھیں۔ میڈیا پر حملے، بدزبانی، اور صحافیوں کے خلاف مہم چلانا سیاست نہیں، کم ظرفی ہے۔
آزاد میڈیا کی حمایت
آخر میں وزیر اطلاعات نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ آزاد میڈیا پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ پنجاب اسمبلی صحافیوں پر تشدد کرنے والوں کی آماجگاہ نہیں بن سکتی۔








