سندھ میں 27 ارب روپے کے سولر انرجی پراجیکٹ میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس، سندھ میں 27 ارب روپے کے سولر انرجی پراجیکٹ میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، سہراب گوٹھ گنا منڈی میں گھر سے خاتون اور 3 بچوں کی لاشیں برآمد
کرپشن کے ثبوت
جیو نیوز کے مطابق حکام پلاننگ ڈویژن سندھ نے بتایا کہ سولر پروجیکٹ میں اربوں روپے کی کرپشن کے ثبوت ملے ہیں۔ اس پروجیکٹ کی دو مرتبہ انکوائریاں مکمل کی گئی ہیں۔ یہ این جی اوز کے تحت پروجیکٹ دیا گیا تھا، جس کے تحت غریب لوگوں کو سولر پینل ملنے تھے۔ اس میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں ہر لیول پر پائی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ میں افسوسناک حادثہ، گھر کی چھت گرنے سے 4 بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق، 3 زخمی
غریبوں کا حق
سینیٹر کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ غریب کا پیسہ کھانا بڑا ظلم ہے، ایسا کرنا بڑا جرم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عوام ہی اصل طاقت ہیں اور کرشموں کا مرکز ہیں، حکمرانی کے معاہدے کو غلامی کے معاہدے میں تبدیل کر دیا ہے، اس معاہدے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے
سلیکشن کی بے قاعدگیاں
سیف اللہ ابڑو کا کہنا تھا کہ این جی اوز کی سلیکشن بغیر ٹینڈر کے ہوئی اور کچھ لوگوں میں بندربانٹ کی گئی۔ 21 ہزار میں ملنے والا پینل 60 ہزار میں لیا گیا، اپنی مرضی کے لوگوں کو نوازنے کے لیے پورا پلان بنایا گیا۔
آئندہ اجلاس کا اعلان
قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تمام ریکارڈ کے ہمراہ سیکرٹری کو دوبارہ طلب کرلیا۔








