سکول کے پچھواڑے سے پہاڑی علاقہ شروع ہوتا ہے، دوسرے استاد فٹ بال ٹیم کے انچارج بھی تھے، سگریٹ نوشی کی وجہ سے اُس سے اپنی گاڑی چھننے لگی۔
مصنف کا تعارف
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 14
یہ بھی پڑھیں: صارفین کی منظوری کے بغیر کسی سے بھی ان کا ڈیٹا شیئر نہیں کیا جائے گا: گورنر سٹیٹ بینک
استاد بابو خان کی تفصیلات
دوسرے استاد بابو خان ایک درمیانی قد و قامت کے حامل، تہبند اور کرتا پہنے ہوئے، سر پر کُلّے والی پگڑی کے ساتھ نظر آتے تھے۔ وہ مسلمان راجپوت فیملی سے تعلق رکھتے تھے اور سگریٹ نوشی کے شوقین تھے۔ ان کی تعلیمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ وہ فٹ بال ٹیم کے انچارج بھی تھے۔ سگریٹ نوشی کی قدر مشترک کی وجہ سے ان کے ساتھ دوستی ہوگئی، کیونکہ میں اکثر انہیں سگریٹ کی پیشکش کرتا تھا، اور وہ خوشی سے قبول کر لیتے تھے۔ یوں مجھے دھوپ میں فٹ بال کھیلنے سے راحت مل جاتی، اور ہم سائے میں بیٹھ کر دھوئیں کے مرغولے ہوا میں چھوڑتے۔ کھیلنے کے بعد ہمیں جلدی واپس سکول جانا ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں ایک اور معروف یوٹیوبر پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار
ہائی سکول کا تجربہ
میں نے مڈل سکول نواں شہر سے امتحان اچھے نمبروں میں پاس کیا اور قصبہ "صاحبہ" کے ہائی سکول میں داخلہ لے لیا، جو گاؤں سے 4 میل دور مشرق کی جانب واقع تھا۔ اسکول کے باہر بائیں طرف ایک پانی کا رہٹ تھا جسے ایک لڑکا بھی چلا سکتا تھا۔ اس کے پیچھے پہاڑی علاقے کی شروعات ہوتی تھی جس میں جھاڑیاں، چھوٹے اور بڑے درخت موجود تھے۔ لوگ صبح کو بکریوں کا ریوڑ چھوڑتے تھے، اور شام میں بکریاں خود بخود واپس اپنے مالکان کے ساتھ چلی جاتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق کپتان سرفراز احمد نے ریٹائرمنٹ کا اشارہ دے دیا
سکول جانے کا طریقہ
میں اور میرا ساتھی نور احمد سائیکل پر سکول جایا کرتے تھے، حالانکہ اس وقت سائیکلنگ عام نہیں تھی۔ ہمارے گاؤں میں چند سائیکلیں تھیں، اور ہائی سکول جانے والا علاقہ ریتلا تھا، جس کی وجہ سے سائیکل چلانا مشکل تھا۔ ہم نے پگڈنڈیوں پر سائیکل چلا کر سکول جانا سیکھا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ایک اور بچی مین ہول میں گر گئی، شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بچا لیا
اساتذہ کا ذکر
سکول کے دو ٹیچرز کا ذکر کرنا چاہوں گا: پہلا لبّھو رام، جو اکثر ہمیں کھیتوں میں اپنی گائے کے لیے گھاس کاٹتے ہوئے ملتے تھے۔ کبھی کبھار وہ گھاس کاٹ کر گٹھڑی سر پر اٹھاتے اور سکول آتے۔ دوسرا ٹیچر نذیر احمد تھے جو بڑے سلجھے ہوئے اور سلیقے کے مالک تھے۔ ان کا تعلق کسی دور دراز علاقے سے تھا، اور انہیں بورڈنگ ہاؤس کا سپرٹنڈنٹ بنایا گیا تھا تاکہ وہ نگرانی بھی کر سکیں اور اپنی رہائش کا مسئلہ بھی حل کر سکیں۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








