بازی پلٹ دی، استادوں کی باتیں پلو سے باندھ لیتا، استادوں کا گیان معاملات سلجھادیتا ہے،بے فکر رہیں ”سخاوت“ میں سخاوت والی کوئی بات نہیں

مصنف کا تعارف

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 395

یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت ہاٹ لائن کھلی ہوئی ہے، امید ہے سیز فائر برقرار رہے گا، ڈی جی آئی ایس پی آر

اجلاس کا اختتام

اجلاس ختم ہوا تو رانا سخاوت مجھے ملے اور کہا؛ “سر! جناب نے بازی پلٹ دی ہے۔” میں نے کہا؛ “رانا صاحب حقیقت حقیقت ہی ہوتی ہے۔ آپ کولیگ ہیں، باس مت بنیں۔” ڈی سی او ڈاکٹر نعیم بولے؛ “مجھے آپ کی بات کا یقین ہے۔ عامر کی بات کو میں سیریس نہیں لیتا ہوں۔ وہ بہاول پور کے منصوبہ جات پر توجہ دے اور انہیں وقت پر ختم کرے۔ ویسے سخاوت برا افسر نہیں ہے۔” میں نے کہا؛ “سر! بہاول پور کے منصوبے پہلے اور معیار کے مطابق مکمل ہوں گے، انشا اللہ۔ آپ بے فکر رہیں۔ جہاں تک سخاوت کا تعلق ہے تو اس میں سخاوت والی کوئی بات نہیں۔” وہ خوب ہنسے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے بے گناہوں کے خون کا بدلہ لے لیا: شہبازشریف

فیملی مین کی کہانی

میں شروع سے ہی “فیملی مین” ہوں۔ اپنی شادی کے چند دن بعد ہی امی جی نے کہا؛ “بیٹا! اپنی بیوی کو بھی اپنے ساتھ لالہ موسیٰ لے جاؤ۔ میاں بیوی کو اکٹھے ہی رہنا چاہیے۔” یوں شروع دن سے ہی بچوں کے ساتھ رہنے کی عادت تھی۔ بہاول پور پہلا موقع تھا جب بچے لاہور تھے اور میں یہاں۔ بہاول پور پوسٹنگ کے بعد ابتدائی دنوں میں میں ہر دوسرے ہفتے گھر آجاتا تھا، پھر بیگم کے حکم پر میں ہر ہفتے آنے لگا۔ میری عدم موجودگی میں اگر کوئی ضروری assignment آ جاتی تو خورشید صاحب اسے مکمل کر لیتے تھے۔ مجھے اُن پر پورا اعتماد تھا۔ میں خالی پیپر پر دستخط کرکے ان کے پاس چھوڑ دیتا تاکہ اگر کوئی رپورٹ دینی پڑے تو انہیں مشکل نہ ہو۔ بعد میں یہ اعتماد اس حد تک بڑھ گیا کہ میں نے انہیں کہہ رکھا تھا کہ جہاں ضرورت محسوس کریں، خود ہی میرے دستخط کر دیا کریں۔ میرے استاد (باس) نے بتا رکھا تھا؛ “بچو! دستخط وہی جعلی ہوتے ہیں جن کے بارے کہا جائے کہ یہ میرے نہیں ہیں۔” میں استادوں کی باتیں ہمیشہ پلو سے باندھ لیتا تھا۔ استادوں کا تجربہ اور گیان معاملات سلجھا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قائد اعظمؒ نے مسلمانان ہند کو نظریہ، شعور اور خودمختار ریاست دی: محسن نقوی

رحیم یار خاں کا چوہدری

بہاول پور میں دفتری معاملات درست کرکے بلکہ بہتر کرکے میری توجہ کا مرکز اب رحیم یار خاں کا ضلع تھا، جہاں خالد محمود “ٹو ان ون” تھا یعنی اے ڈی ایل جی بھی وہی تھا اور ڈی او سی او کا چارج بھی اسی کے پاس تھا۔ وہ سیاسی maneuvering میں ملکہ رکھتا تھا اسی لئے دونوں چارج اسی کے پاس تھے۔ وہ رینکر مگر خوش لباس، تابعدار، البتہ کمزور افسر تھا۔ سخت فیصلوں سے گھبراتا تھا اور فیصلہ میں compromise کو ترجیح دیتا۔ دوسرے الفاظ میں سب کو راضی رکھ کر اپنا رانجھا راضی رکھتا تھا۔ اُس کی بیگم کسی سرکاری سکول میں ٹیچر تھی۔ میری اس سے پرانی شناسائی بھی تھی۔ ابتدائی دوروں کے تقریباً 3 ماہ بعد رحیم یار خاں کے سرپرائز وزٹ پر ایک روز علی الصبح بہاول پور سے خورشید صاحب اور نواز کے ہمراہ روانہ ہوا۔ میری شروع سے عادت رہی کہ میں کہیں بھی جانا ہو فجر کی نماز پڑھ کر روانہ ہوتا اور رات گئے واپس اپنے ہیڈکواٹرز پہنچ جاتا تھا۔ (جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب “بک ہوم” نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...