سابق ڈی جی آئی ایس پی آر فیض حمید، عمران خان کے خلاف کسی بھی مقدمے میں سرکاری گواہ نہیں بن رہے، فیض حمید کے وکیل کا دعویٰ

فیض حمید کے وکیل کا بیان

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کے مؤکل سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف کسی بھی مقدمے میں سرکاری گواہ نہیں بن رہے۔

یہ بھی پڑھیں: سی ایم پنجاب گرین کریڈٹ پروگرام کے تحت ای بائیکس کی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ

خبروں کا انکار

فیض حمید کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے ان خبروں کو مسترد کر دیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ ان کے مؤکل عمران خان کیخلاف سرکاری گواہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے ان دعوؤں کو ’’قیاس آرائی پر مبنی اور بے بنیاد‘‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میرے والد کی صحت بگڑ رہی ہے، پاکستان آنا چاہتے ہیں، حکومت جان بوجھ کر ہماری ویزا درخواستوں پر کارروائی نہیں کر رہی: قاسم خان

سچائی کی عدم موجودگی

دی نیوز کے سوالات کے جواب میں بیرسٹر میاں علی اشفاق کا کہنا تھا کہ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی ان اطلاعات میں ’’کوئی صداقت نہیں‘‘ جن میں کہا جا رہا ہے کہ فیض حمید عمران خان کیخلاف مقدمات میں سرکاری گواہ بننے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ تمام خبریں مکمل طور پر بے بنیاد اور محض قیاس آرائی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں: زیادتی کیس؛ مدعیہ اپنے بیان سے مکر گئی،سابق کرکٹر عبدالقادر کے بیٹے سلمان قادر کو رہا کردیاگیا

وزراء کے بیانات

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بعض وفاقی وزراء اور اسٹیبلشمنٹ سے قربت کے حوالے سے معروف سینیٹر فیصل واوڈا متعدد مرتبہ یہ بیان دے چکے ہیں کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی سابق وزیراعظم کیخلاف گواہی دیں گے۔ اس کے علاوہ، عمران خان اور فیض حمید کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ (خصوصاً 9؍ مئی 2023 کے پُرتشدد واقعات کے تناظر میں) کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں غیرت کے نام پر قتل: مرد اور خاتون کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

موکل سے بات چیت

جب بیرسٹر میاں علی اشفاق سے پوچھا گیا کہ آیا انہوں نے اس معاملے پر براہِ راست اپنے موکل سے بات کی ہے تو انہوں نے واضح ہاں میں جواب دینے کے بجائے کہا، ’’مجھے یہ بات بطورِ حقیقت معلوم ہے‘‘، جس سے انہوں نے اس تاثر کو تقویت دی کہ فیض حمید کے پی ٹی آئی کے بانی کیخلاف سرکاری گواہ بننے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں طلبہ کے لیے قومی سطح پر خود دفاعی تربیتی مہم کا آغاز

سرکاری سرپرستی میں قیاس آرائیاں

فیض حمید اور عمران خان کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ سے متعلق قیاس آرائیاں سرکاری سرپرستی میں بننے والا بیانیہ ہیں، جو 9؍ مئی کے واقعات کے بعد دہرایا جا رہا ہے۔ ان واقعات کے دوران عمران خان کی گرفتاری کے بعد بعض فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک کا یکم جنوری کو تعطیل کا اعلان

فوجی عدالت کی سزا

یہ قیاس آرائیاں اس وقت مزید تقویت اختیار کر گئیں جب حال ہی میں فوجی عدالت نے فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا سنائی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی چوک احتجاج کیس: پی ٹی آئی کے 140 سے زائد رہنماوں کی حفاظتی اور راہداری ضمانت منظور

وفاقی کابینہ کے دعوے

وفاقی کابینہ کے سینئر ارکان وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ متعدد بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ یہ پر تشدد واقعات عمران خان اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے درمیان ایک مربوط منصوبے کا نتیجہ تھے۔ تاہم، ان دعووں کے باوجود، فوج کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر نے تاحال اپنی کسی بریفنگ میں یہ نہیں کہا کہ عمران خان اور فیض حمید کے درمیان ایسا کوئی گٹھ جوڑ موجود تھا۔

حکومت کی جانب سے جواب

یہ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حال ہی میں جب حکومت کے ترجمان اور وزیر اطلاعات سے دی نیوز نے پوچھا کہ فیض حمید اور عمران خان کے درمیان تعلقات سے متعلق دعوے کسی سول یا فوجی تحقیقات کے نتائج پر مبنی ہیں یا محض قرائن پر، تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ اس معاملے پر آئی ایس پی آر سے پوچھیں۔

Categories: قومی

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...