انڈونیشیا کی شہریت کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خبر
انڈونیشیا کا گلوبل سٹیزن شپ پروگرام
جکارتہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) انڈونیشیا نے شہریت کے خواہشمند افراد کے لیے ایک نیا اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے گلوبل سٹیزن شپ آف انڈونیشیا پروگرام متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت درخواستوں کی وصولی شروع ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین پر تشدد کرنے والے بزدل اورمجرم ہیں، آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا:وزیر اعلیٰ پنجاب
نئے رہائشی قوانین
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اس پروگرام کے ذریعے سابق انڈونیشیائی شہریوں اور ان سے وابستہ افراد کو ملک میں غیر معینہ مدت تک رہائش اور کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کیمیکل ہتھیاروں سے لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے: مشعال ملک کا تقریب سے خطاب
دوہری شہریت کی پابندیاں
اگرچہ انڈونیشیا میں دوہری شہریت کی اجازت نہیں، تاہم حکومت نے اس پابندی کے متبادل کے طور پر انڈونیشیائی نژاد غیر ملکیوں کے لیے ایک خصوصی رہائشی حیثیت متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کا بجٹ 13 جولائی کو پیش کیے جانے کا امکان
اہم مقاصد
اس اقدام کا بنیادی مقصد بیرونِ ملک مقیم انڈونیشیائی نسل کے افراد کو دوبارہ وطن سے جوڑنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یلغار کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے: سینیٹر اسحاق ڈار
پروگرام کی شروعات
رپورٹس کے مطابق، اس پروگرام کا باضابطہ آغاز 26 جنوری 2026 کو ہوگا، جبکہ اب تک کم از کم پانچ افراد نے رجسٹریشن کرا لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں کمی
درخواستوں کی جانچ
رہائشی اجازت ناموں کے ڈائریکٹر جنرل ایڈی ایکو پترانتو کے مطابق، موصول ہونے والی درخواستوں کی جانچ پڑتال جاری ہے تاکہ درخواست گزاروں کی اہلیت کا تعین کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کی معروف ایئر لائن کی ہڑتال، سینکڑوں پروازیں منسوخ، 1 لاکھ سے زائد مسافر پھنس کر رہ گئے
اہلیت کے معیار
اس پروگرام کے اہل افراد میں سابق انڈونیشیائی شہری، ان کی اولاد، پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، انڈونیشیائی شہریوں کے غیر ملکی شریکِ حیات اور وہ بچے بھی درخواست دے سکتے ہیں جو انڈونیشیائی اور غیر ملکی والدین سے پیدا ہوئے ہوں۔
نااہل طبقہ
تاہم، حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ سہولت ان غیر ملکیوں کو فراہم نہیں کی جائے گی جن کا تعلق ایسے ممالک سے ہو جو ماضی میں انڈونیشیا کا حصہ رہے ہوں یا جو علیحدگی پسند سرگرمیوں میں ملوث رہے ہوں۔
اسی طرح، وہ افراد بھی نااہل قرار دیئے گئے ہیں جنہوں نے کسی دوسرے ملک میں سرکاری ملازم، انٹیلی جنس افسر یا فوجی اہلکار کے طور پر خدمات انجام دی ہوں۔








