انڈونیشیا کی شہریت کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خبر
انڈونیشیا کا گلوبل سٹیزن شپ پروگرام
جکارتہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) انڈونیشیا نے شہریت کے خواہشمند افراد کے لیے ایک نیا اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے گلوبل سٹیزن شپ آف انڈونیشیا پروگرام متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت درخواستوں کی وصولی شروع ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہری سے رشوت لیتے ہوئے انچارج انویسٹی گیشن گرفتار ، کرپٹ ملازمین کیخلاف کریک ڈاؤن ہو گا : ڈی جی اینٹی کرپشن
نئے رہائشی قوانین
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اس پروگرام کے ذریعے سابق انڈونیشیائی شہریوں اور ان سے وابستہ افراد کو ملک میں غیر معینہ مدت تک رہائش اور کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان فوج دہشتگرد مجید کو بھارت کی جانب سے ہائیر کرنے کی آڈیو بھی سامنے لے آئی
دوہری شہریت کی پابندیاں
اگرچہ انڈونیشیا میں دوہری شہریت کی اجازت نہیں، تاہم حکومت نے اس پابندی کے متبادل کے طور پر انڈونیشیائی نژاد غیر ملکیوں کے لیے ایک خصوصی رہائشی حیثیت متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین-پاکستان زرعی تعاون کے ثمرات، پاکستانی ماہر فصلوں کی بیماریوں سے نمٹنے کے لئے چین کی بہار کاشتکاری میں شامل
اہم مقاصد
اس اقدام کا بنیادی مقصد بیرونِ ملک مقیم انڈونیشیائی نسل کے افراد کو دوبارہ وطن سے جوڑنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تمام اوورسیز پاکستانی ہمارا سرمایہ ہیں،بیرسٹر امجد ملک
پروگرام کی شروعات
رپورٹس کے مطابق، اس پروگرام کا باضابطہ آغاز 26 جنوری 2026 کو ہوگا، جبکہ اب تک کم از کم پانچ افراد نے رجسٹریشن کرا لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملہ: اسرائیلی و امریکی مشترکہ آپریشن کے مختلف نام سامنے آگئے
درخواستوں کی جانچ
رہائشی اجازت ناموں کے ڈائریکٹر جنرل ایڈی ایکو پترانتو کے مطابق، موصول ہونے والی درخواستوں کی جانچ پڑتال جاری ہے تاکہ درخواست گزاروں کی اہلیت کا تعین کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: رویّت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
اہلیت کے معیار
اس پروگرام کے اہل افراد میں سابق انڈونیشیائی شہری، ان کی اولاد، پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، انڈونیشیائی شہریوں کے غیر ملکی شریکِ حیات اور وہ بچے بھی درخواست دے سکتے ہیں جو انڈونیشیائی اور غیر ملکی والدین سے پیدا ہوئے ہوں۔
نااہل طبقہ
تاہم، حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ سہولت ان غیر ملکیوں کو فراہم نہیں کی جائے گی جن کا تعلق ایسے ممالک سے ہو جو ماضی میں انڈونیشیا کا حصہ رہے ہوں یا جو علیحدگی پسند سرگرمیوں میں ملوث رہے ہوں۔
اسی طرح، وہ افراد بھی نااہل قرار دیئے گئے ہیں جنہوں نے کسی دوسرے ملک میں سرکاری ملازم، انٹیلی جنس افسر یا فوجی اہلکار کے طور پر خدمات انجام دی ہوں۔







