عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف واٹر کینن کا بار بار استعمال نہایت قابلِ مذمت اور بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایمان مزاری
ایمان مزاری کا شدید ردعمل
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایڈووکیٹ ایمان مزاری کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں اور پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان (جن میں بزرگ اور کم سن بچے بھی شامل ہیں) کے خلاف واٹر کینن کا بار بار استعمال نہایت قابلِ مذمت ہے۔ یہ عمل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے طاقت کے استعمال کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک نے نئے فیچرز متعارف کروا دیئے
بین الاقوامی معیارات اور طاقت کا استعمال
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق طاقت کے استعمال کے لیے ضروری ہے کہ ضرورت، تناسب اور نقصان کو کم سے کم رکھا جائے۔ سب سے پہلے تو واٹر کینن کے استعمال کو کسی حد تک جواز دینے کے لیے ایک پُرتشدد اور غیرقانونی اجتماع موجود ہونا چاہیے، جسے دوسرے ذرائع سے منتشر نہ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: لندن میراتھن میں 40 پاکستانیوں کی شرکت، کینیا کے سیباسشین ساوے فاتح قرار پائے
ریاست پاکستان کی ذمے داری
ایمان مزاری نے مزید کہا کہ یہ سوال انتہائی تشویشناک ہے کہ ریاست پاکستان خود کو یہ حق کیوں دیتی ہے کہ وہ شدید سردی میں پُرامن مظاہرین کے خلاف بار بار واٹر کینن استعمال کرے، اور اس پر نہ کوئی جوابدہی ہو نہ کوئی نتیجہ؟ یہ عمل پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں، خصوصاً بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR)، کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ وہ ذمہ داریاں ہیں جو پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے منسلک ہیں۔
سوشل میڈیا پر بیان
Repeated use of water canons against Imran Khan’s sisters and PTI workers (including the elderly and young children) is despicable and in clear violation of the basic principles on the use of force by law enforcement personnel. International standards provide for requirements of…
— Imaan Zainab Mazari-Hazir (@ImaanZHazir) December 31, 2025








