خیالات کے تبادلے سے نئے احساسات کی تخلیق: خود کی آزادی کا پہلا قدم
مصنف کی معلومات
مصنف: ڈاکٹر وائن ڈبلیو ڈائر
ترجمہ: ریاض محمود انجم
قسط: 11
یہ بھی پڑھیں: بہاولنگر میں گھریلو جھگڑے پر شوہر نے بیوی پر تیزاب پھینک دیا
خیالات اور احساسات کا تعلق
اگر آپ کو اپنے خیالات پر قابو حاصل ہے اور آپ کے احساسات آپ کے خیالات کے باعث نمودار ہوتے ہیں تو پھر آپ اپنے احساسات و محسوسات کو اپنے تابع کرنے کے قابل اور اہل ہو جاتے ہیں۔ آپ اپنے خیالات پر عملی کارروائی کے ذریعے ہی اپنے احساسات پر قابو پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ یہ فرض کریں کہ مختلف افراد اور مختلف اشیاء آپ کو خوشی و مسرت مہیا کرتی ہیں تو آپ کا یہ رویہ غلط ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تدفین کے وقت مردہ خاتون زندہ ہو گئیں، قبرستان میں موجود لوگ خوفزدہ، ادھر ادھر بھاگنے لگے
خوشی کا اصل ماخذ
آپ کو خوشی اور مسرت آپ کے خیالات کے باعث مہیا ہوتی ہے۔ جب آپ اپنے خیالات تبدل کرتے ہیں تو آپ میں نئے احساسات اور محسوسات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس طرح آپ اپنے وجود اور ذات کی آزادی کے لیے پہلا قدم اٹھاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی بیٹوں سے بات کروا دی گئی اور اخبارات بھی فراہم کر دیئے گئے
ایک مثال: کارل کی کہانی
کارل ایک نوجوان افسر ہے جو زیادہ تر وقت اس بات پر رنجیدہ رہتا ہے کہ اس کا افسراعلیٰ اسے بیوقوف سمجھتا ہے۔ اگر کارل کو یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ اس کا افسراعلیٰ اسے کیسا سمجھتا ہے تو کیا وہ اب بھی ناخوش ہوتا؟ کارل خود کو اس لیے ناخوش رہتا ہے کہ وہ یقین دلانے میں لگا رہتا ہے کہ دوسروں کی سوچ اس کی اپنی سوچ سے زیادہ اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کی چیئرمین پی اینڈ ڈی نبیل اعوان رہائش گاہ آمد، والدہ کے انتقال پر تعزیت کی
دوسروں کی رائے کا اثر
اس منطق کا اطلاق زندگی کے ہر واقعے پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، کسی دوسرے فرد کی موت سے آپ رنجیدہ نہیں ہوتے جب تک کہ آپ کو اس کی موت کی خبر نہ ہو۔ قدرتی آفات بذات خود پریشان کن نہیں ہوتیں، بلکہ انسان خود ان کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ: پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت قبضے پر سخت ریمارکس، فوری واپسی کا حکم
اپنے خیالات کی ذمہ داری
آپ کو بچپن سے یہ سکھایا گیا ہے کہ آپ اپنے خیالات و احساسات کے ذمہ دار نہیں ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آپ ہی ان کے ذمہ دار ہیں۔ بچپن میں سکھایا گیا نظریہ آپ کے ذہن میں کئی بہانے بھی پیدا کرتا ہے، جیسے:
- آپ میرے احساسات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔
- آپ کا رویہ ایسا ہے کہ میں رنجیدہ ہو جاتا ہوں۔
- مجھے بہت غصہ محسوس ہو رہا ہے لیکن اس کی وجہ میں نہیں بتا سکتا۔
- وہ مجھے پریشان اور بیمار کر دیتا ہے۔
- بلندیوں سے مجھے خوف آتا ہے۔
- آپ مجھے ہراساں کر رہے ہیں۔
- وہ مجھ سے واقعی بہت ناراض ہے۔
- آپ نے لوگوں کے سامنے مجھے بیوقوف بنا دیا۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








