8 جنگیں روکنے کے دعویدار ٹرمپ نے 2025 میں 7 ملکوں پر بم بھی برسائے
ٹرمپ کی فوجی کارروائیاں
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2025 کے دوران کم از کم سات ممالک میں فوجی حملے کیے، حالانکہ صدر ٹرمپ خود کو “امن کا صدر” قرار دیتے رہے اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے دنیا بھر میں آٹھ جنگیں ختم کیں۔ انہوں نے جن ملکوں پر حملے کیے ان میں وینز ویلا، نائجیریا، شام، عراق، ایران، یمن اور صومالیہ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ؛گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد و زیادتی کیس، سٹیج اداکارہ ثمر رانا گرفتار
وینزویلا میں فوجی کارروائی
الجزیرہ کے مطابق اس ہفتے صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکہ نے وینزویلا میں ایک ڈاکنگ سہولت کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ وینزویلا کی سرزمین پر پہلا براہِ راست امریکی فوجی حملہ ہے، جس سے قبل ستمبر 2025 سے امریکہ کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں وینزویلا کی بحری جہازرانی کو نشانہ بنا رہا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں منشیات سمگلنگ کے خلاف جنگ کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کینالز منصوبے میں سیلاب کا پانی استعمال ہوگا، اس پر سندھ ہمیں ڈکٹیشن نہیں دے سکتا: عظمیٰ بخاری
امن کے دعوے کے خلاف حملے
یہ حملہ اس دعوے کے بالکل برعکس ہے جس میں ٹرمپ خود کو نوبیل امن انعام کے قابل “صدرِ امن” کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوجرانوالہ میں رستم پاکستان کے فائنل میں پہنچنے والے پہلوان پر قاتلانہ حملہ
بمباریوں کی تعداد
غیرجانبدار تنازعہ مانیٹر ادارے آرمڈ کانفلیکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا کے مطابق 20 جنوری 2025 کو ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک امریکہ 622 بیرونِ ملک بمباریوں میں براہِ راست ملوث رہا ہے۔ ان حملوں میں ڈرونز اور جنگی طیارے استعمال کیے گئے۔ کئی کارروائیاں براہِ راست جبکہ بعض اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ طور پر کی گئیں۔
مختلف ممالک پر حملے
مانیٹر ادارے کا کہنا ہے کہ 2025 میں امریکہ نے مجموعی طور پر سات مختلف ممالک کے خلاف فوجی حملے کیے۔








