پاکستان کے پہلے اسکلز امپیکٹ بانڈ کے تاریخی اجرا میں بینک آف پنجاب کی شراکت
بینک آف پنجاب اور برٹش ایشین ٹرسٹ کا مشترکہ منصوبہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بینک آف پنجاب (BOP) نے برٹش ایشین ٹرسٹ (BAT) کے ساتھ مل کر، بطور ٹرانزیکشن ایڈ وائزرز اور پروگرام مینیجرز (TAPM)، پاکستان اسکلر امپیکٹ بانڈ (PSIB) کے با قاعدہ اجرا کا اعلان کیا ہے۔ یہ AAA ریٹنگ ، حکومت پاکستان کی ضمانت اور نجی طور پر جاری کیا گیا ٹرم فنانس سرٹیفکیٹ (TFC) ہے، جس کی مالیت ایک ارب روپے ( 1,000PKR ملین ) ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمے روڈ میپ پر عملدرآمد کیلئے عملی اقدامات کریں، منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر نہ کی جائے: علی امین گنڈاپور
پروگرام کی قیادت
یہ منصوبہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی دوراندیش رہنمائی میں ، اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹرینگ کمیشن (NAVTTC) کے قریبی تعاون سے تیار کیا گیا - PSIB پاکستان میں سماجی اثرات پر منی فنانسنگ کے شعبے میں ایک بڑی اور نئی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ناروے کے درمیان کاربن مارکیٹ کا پہلا تاریخی معاہدہ طے پاگیا، پاکستان کے لیے بین الاقوامی کاربن مارکیٹس، کلائمیٹ فنانس اور کم کاربن والے شعبوں میں سرمایہ کاری کے دروازے کھل گئے
مالی ماڈل اور سرمایہ کاری کے اثرات
بینک آف پنجاب کے صدر اور سی ای او ظفر مسعود کی قیادت میں، BOP نے اس جدید مالیاتی نظام کی تیاری میں مرکزی کردارادا کیا۔ یہ ایک نتائج پر مبنی "کامیابی پر ادائیگی" ماڈل ہے، جس کے تحت سرمایہ کار ابتدا میں رقم فراہم کرتے ہیں اور ادائیگی اس وقت ہوتی ہے جب طے شدہ نتائج حاصل ہوں، جیسے نوجوانوں کو کامیاب روزگار ملنا اور مستقل نوکریاں حاصل کرنا۔
یہ بھی پڑھیں: میکسیکو میں مافیا سربراہ کی فوجی آپریشن میں ہلاکت پرصورتحال کشیدہ، توڑ پھوڑ، گرفتاریاں، پر تشدد ہنگاموں میں نیشنل گارڈ کے 25 ارکان ہلاک
عالمی تعاون اور پہچان
PSIB کو عالمی سطح پر بھی بھرپور حمایت حاصل ہوئی ہے۔ فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس (FCDO) نے بطور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت دار، BAT کے ذریعے مالی تعاون فراہم کیا ہے۔ اس تعاون سے اس پروگرام کی عالمی سطح پر پہچان بڑھی ہے، انتظامی اخراجات کم ہوئے ہیں اور مستقبل میں مزید سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ، نیپال نے سکاٹ لینڈ کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر ایونٹ میں پہلی کامیابی سمیٹ لی۔
نئے مالیاتی نظام کی اہمیت
روایتی گرانٹس کے بجائے کارکردگی پر مبنی نظام اپنا کر، PSIB بینکاری اور سماجی ترقی کے تعلق کو ایک نئی شکل دیتا ہے۔ اس میں سرمایہ کاروں کی واپسی کو واضح سماجی اور معاشی نتائج سے جوڑا گیا ہے، جیسے بہتر تربیت، زیادہ روزگار اور طویل مدتی کیریئر استحکام۔
یہ بھی پڑھیں: برٹنی سپیئرز گرفتار، رہائی کیسے ملی؟ جانیے
تقریب کے اہم خیالات
اسلام آباد میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ظفر مسعود نے کہا "بینک آف پنجاب نے رسک سرمایہ کار اور انڈر رائٹر کا کردار ادا کیا، ابتدائی سرمایہ فراہم کیا اور کارکردگی کا خطرہ خود لیا تا کہ یہ نظام ممکن ہو سکے۔ یہ منصوبہ صرف ایک مالی معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی مضبوطی اور انسانی وسائل کی ترقی سے گہری وابستگی کا ثبوت ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: افغانستان سے مذاکرات کے لیے ابھی تک کوئی وفد دوحہ نہیں گیا، سیکیورٹی ذرائع
حکومتی حمایت اور مستقبل
وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے بھی PSIB کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعلیم اور تربیت کے لیے ایک اہم دن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی سے فائدہ اسی وقت ممکن ہے جب نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر ہنر سکھائے جائیں۔
شکریہ اور شراکت داروں کا اعتراف
بینک آف پنجاب، اس منصوبے کے لیے وزارت خزانہ کی جانب سے دی گئی حکومتی ضمانت پر دلی شکرگزاری کا اظہار کرتا ہے، جس سے اس نئے ماڈل پر اعتماد پیدا ہوا۔ BOP ،PACRA ،NAVTTC، پاک عمان انویسٹمنٹ کمپنی لمیٹڈ (بطور ایشو ایجنٹ)، در حیدرمونا اینڈ کمپنی (بطور قانونی مشیر) کی خدمات کو بھی سراہتا ہے۔








