دسمبر جانے والا ہے۔۔۔
نئے آغاز کی طرف
دسمبر جانے والا ہے
چلو اک کام کرتے ہیں
پرانے باب بند کر کے
نظرانداز کرتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: علاقائی ملکوں کا افغانستان سے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار
رنجشیں مٹائیں
بھلا کر رنجشیں ساری
مٹا کر نفرتیں دل سے
معافی دے دلا کر اب
دلوں کو صاف کرتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: کیا سپورٹیج کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی، سوزوکی سوئفٹ اور کلٹس مہنگی ہوگئیں
اپنوں کی بستی
جہاں پر ہوں سبھی مخلص
نہ ہو دل کا کوئی مفلس
اک ایسی بستی اپنوں کی
کہیں آباد کرتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: چرسی دلہن، سہاگ رات پر دلہن نے منہ دکھائی میں بیئر اور چرس مانگ لی، ہنگامہ برپا ہوگیا
خوشیوں کا مکان
جو غم دیتے نہ ہوں گہرے
ہوں سانجھے سب وہاں ٹھہرے
سب ایسے ہی مکینوں سے
مکاں کی بات کرتے ہیں
جنوری کا آغاز
نہ دیکھا ہو زمانے میں
پڑھا ہو نہ فسانے میں
اب ایسے جنوری کا ہم
سبھی آغاز کرتے ہیں
کلام : ڈاکٹر نوید رزاق (برطانیہ)








