دسمبر جانے والا ہے۔۔۔
نئے آغاز کی طرف
دسمبر جانے والا ہے
چلو اک کام کرتے ہیں
پرانے باب بند کر کے
نظرانداز کرتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: رحیم یار خان میں منفرد طبی کیس، 5 سالہ بچے کے سینے سے ’’ بچہ‘‘ نکال لیا گیا۔
رنجشیں مٹائیں
بھلا کر رنجشیں ساری
مٹا کر نفرتیں دل سے
معافی دے دلا کر اب
دلوں کو صاف کرتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: ہنی مون پر اختلاف، سسر نے داماد پر تیزاب پھینک دیا
اپنوں کی بستی
جہاں پر ہوں سبھی مخلص
نہ ہو دل کا کوئی مفلس
اک ایسی بستی اپنوں کی
کہیں آباد کرتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: Remembering the Painful Earthquake Memories of October 8: PDMA Chief Irfan Ali Khatia on AJK and KP
خوشیوں کا مکان
جو غم دیتے نہ ہوں گہرے
ہوں سانجھے سب وہاں ٹھہرے
سب ایسے ہی مکینوں سے
مکاں کی بات کرتے ہیں
جنوری کا آغاز
نہ دیکھا ہو زمانے میں
پڑھا ہو نہ فسانے میں
اب ایسے جنوری کا ہم
سبھی آغاز کرتے ہیں
کلام : ڈاکٹر نوید رزاق (برطانیہ)








