دسمبر جانے والا ہے۔۔۔
نئے آغاز کی طرف
دسمبر جانے والا ہے
چلو اک کام کرتے ہیں
پرانے باب بند کر کے
نظرانداز کرتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر حکیم شہزاد لوہا پاڑ کی مبینہ گرفتاری کی افواہیں
رنجشیں مٹائیں
بھلا کر رنجشیں ساری
مٹا کر نفرتیں دل سے
معافی دے دلا کر اب
دلوں کو صاف کرتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا بدلتا عالمی کردار: امن کی سفارتکاری
اپنوں کی بستی
جہاں پر ہوں سبھی مخلص
نہ ہو دل کا کوئی مفلس
اک ایسی بستی اپنوں کی
کہیں آباد کرتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: آغا سراج درانی کی وفات کے بعد خالی ہونے والی نشست آغا شہباز درانی نے جیت لی
خوشیوں کا مکان
جو غم دیتے نہ ہوں گہرے
ہوں سانجھے سب وہاں ٹھہرے
سب ایسے ہی مکینوں سے
مکاں کی بات کرتے ہیں
جنوری کا آغاز
نہ دیکھا ہو زمانے میں
پڑھا ہو نہ فسانے میں
اب ایسے جنوری کا ہم
سبھی آغاز کرتے ہیں
کلام : ڈاکٹر نوید رزاق (برطانیہ)








