خوب جیبیں بھر رہے ہیں، کسی کی گرفت کا خوف نہیں، جوابدہی کا ڈر نہیں، کرپشن میں بے تحاشا اضافہ، سیکرٹری آسانی سے بلیک میل ہو جاتا ہے، رکاوٹ ڈالنے والا “رل” جاتا ہے۔
متعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 396
یہ بھی پڑھیں: لاہور: خاتون سے گاڑی چھیننے کی ویڈیو سامنے آگئی، ملزمان گرفتار
رحیم یار خاں میں یونین کونسلوں کے مسائل
رحیم یار خاں میں یونین کونسلوں کے مسائل بہاول پور کے جیسی صورت حال سے مختلف نہیں تھے، مگر یہاں دو مختلف گروپ تھے۔ ایک گروپ کی قیادت رشید باجوہ کر رہا تھا جبکہ دوسرے کا سربراہ احمد کمبوہ تھا۔ رشید 2001ء کے لوکل گورنمنٹ نظام کے نفاذ کے بعد کسی میونسپل کمیٹی سے آ کر سیکرٹری یونین کونسل کے عہدے پر فائز ہوا، جبکہ احمد پرانے لوکل گورنمنٹ کا ملازم تھا۔ دونوں کے درمیان چوہدراہٹ کا مسئلہ دراصل ملک کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں ترمیم نہیں آئے گی بھرپور مزاحمت کریں گے: فضل الرحمان
دفاتر میں غیر موجودگی کا مسئلہ
خورشید صاحب کو بتایا گیا کہ ان دونوں کے دفاتر پر چھاپہ مارنے سے اگر ان میں سے کسی کو بھی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تو یونین سطح کے تمام معاملات بڑی حد تک حل ہو جائیں گے۔ خوش قسمتی سے نواز کو دونوں دفاتر کی لوکیشن معلوم تھی۔ نواز ایک پرانا ڈرائیور تھا اور علاقے کی صورتحال سے اچھی طرح واقف تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بہاولپور میں بھارت نے میزائل حملے میں مسجد کو نشانہ بنا یا، بزدلانہ کارووائی کی تفصیلات سامنے آگئیں
کارکردگی میں کمی
اس دور میں سیکرٹری یونین کونسل میں بھی ایک نیا مرض پیدا ہوا کہ وہ صرف مخصوص ایام میں دفتر آتے اور زیادہ تر ہفتے میں صرف 3 دن ہی حاضر ہوتے۔ 2001ء کے ڈولوشن پلان کی بدولت پورے محکمے کی کارکردگی میں واضح کمی آئی، جس کے نتیجے میں کرپشن میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پاکستانیوں کی بیرون ملک دولت واپس لانے پر غور، نجی ٹی وی کا ذرائع کے حوالے سے دعویٰ
چیئر مین کا اختیار
چیئر مین من مانی کرنے لگے تھے، کیونکہ سیکرٹری کی تنخواہ یونین کونسل کے فنڈز سے بھر جاتی تھی، اس کے مقابلے میں پہلے یہ سرکاری خزانے سے ملتی تھی۔ اس صورت حال کی وجہ سے سیکرٹری بلیک میل ہو جاتے اور اگر وہ چیئر مین کی منشا کے خلاف کام کرتے تو انہیں ٹرانسفر کر دیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں قتل 8 پاکستانیوں کی تصدیق شدہ فہرست جاری کردی گئی
نئی تبدیلیاں
مجھے جب ڈائریکٹر کی حیثیت سے یہاں آنے کا موقع ملا تو چیئر مین کی مدت ختم ہو چکی تھی، اور بلدیاتی اداروں کا نظام ایڈمنسٹریٹر چلا رہے تھے۔ یہ ایک منفرد مثال ہے جہاں منتخب سربراہ اپنی مدت پوری کرنے کے بعد نئے انتخابات کے دوران ایڈمنسٹریٹرز مقرر کر دیئے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 2ہزار روپے دینے کا فیصلہ
دفتری ماحول
میں خورشید صاحب سے بات چیت کرتا، اور موسم کی خوبصورتی کا لطف اُٹھاتا۔ مجھے لالہ نذر، جلیل اصغر اور دیگر سیکرٹریوں کی یاد آئی، جو روزانہ وقت پر آ کر بغیر کسی وقفے کے 2 بجے تک دفتر میں حاضر رہتے تھے اور ”آج کا کام کل پر مت ڈالنے“ کی ایسی مثالیں قائم کرتے تھے۔
نوٹس
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








