خوب جیبیں بھر رہے ہیں، کسی کی گرفت کا خوف نہیں، جوابدہی کا ڈر نہیں، کرپشن میں بے تحاشا اضافہ، سیکرٹری آسانی سے بلیک میل ہو جاتا ہے، رکاوٹ ڈالنے والا “رل” جاتا ہے۔
متعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 396
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں تعلیمی ادارے کب تک بند رہیں گے؟ وزیر تعلیم کا بیان آ گیا
رحیم یار خاں میں یونین کونسلوں کے مسائل
رحیم یار خاں میں یونین کونسلوں کے مسائل بہاول پور کے جیسی صورت حال سے مختلف نہیں تھے، مگر یہاں دو مختلف گروپ تھے۔ ایک گروپ کی قیادت رشید باجوہ کر رہا تھا جبکہ دوسرے کا سربراہ احمد کمبوہ تھا۔ رشید 2001ء کے لوکل گورنمنٹ نظام کے نفاذ کے بعد کسی میونسپل کمیٹی سے آ کر سیکرٹری یونین کونسل کے عہدے پر فائز ہوا، جبکہ احمد پرانے لوکل گورنمنٹ کا ملازم تھا۔ دونوں کے درمیان چوہدراہٹ کا مسئلہ دراصل ملک کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مجھ سے متعلق فیصلے اور سزائیں پہلے سے لکھے ہوئے ہیں، عمران خان
دفاتر میں غیر موجودگی کا مسئلہ
خورشید صاحب کو بتایا گیا کہ ان دونوں کے دفاتر پر چھاپہ مارنے سے اگر ان میں سے کسی کو بھی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تو یونین سطح کے تمام معاملات بڑی حد تک حل ہو جائیں گے۔ خوش قسمتی سے نواز کو دونوں دفاتر کی لوکیشن معلوم تھی۔ نواز ایک پرانا ڈرائیور تھا اور علاقے کی صورتحال سے اچھی طرح واقف تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: بولان میڈیکل کمپلیکس میں 4 ارب 15کروڑ روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف
کارکردگی میں کمی
اس دور میں سیکرٹری یونین کونسل میں بھی ایک نیا مرض پیدا ہوا کہ وہ صرف مخصوص ایام میں دفتر آتے اور زیادہ تر ہفتے میں صرف 3 دن ہی حاضر ہوتے۔ 2001ء کے ڈولوشن پلان کی بدولت پورے محکمے کی کارکردگی میں واضح کمی آئی، جس کے نتیجے میں کرپشن میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں مردانہ لباس پہن کر کام کرنے والی نوجوان لڑکی کو گرفتار کر لیا گیا
چیئر مین کا اختیار
چیئر مین من مانی کرنے لگے تھے، کیونکہ سیکرٹری کی تنخواہ یونین کونسل کے فنڈز سے بھر جاتی تھی، اس کے مقابلے میں پہلے یہ سرکاری خزانے سے ملتی تھی۔ اس صورت حال کی وجہ سے سیکرٹری بلیک میل ہو جاتے اور اگر وہ چیئر مین کی منشا کے خلاف کام کرتے تو انہیں ٹرانسفر کر دیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہوریوں کی اکثریت نے پنجاب حکومت کے بسنت فیسٹیول منانے کے فیصلے کو درست قرار دے دیا
نئی تبدیلیاں
مجھے جب ڈائریکٹر کی حیثیت سے یہاں آنے کا موقع ملا تو چیئر مین کی مدت ختم ہو چکی تھی، اور بلدیاتی اداروں کا نظام ایڈمنسٹریٹر چلا رہے تھے۔ یہ ایک منفرد مثال ہے جہاں منتخب سربراہ اپنی مدت پوری کرنے کے بعد نئے انتخابات کے دوران ایڈمنسٹریٹرز مقرر کر دیئے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جانے والے پی ٹی آئی رہنماؤں اور فیملی ممبران کو پولیس نے تحویل میں لے لیا
دفتری ماحول
میں خورشید صاحب سے بات چیت کرتا، اور موسم کی خوبصورتی کا لطف اُٹھاتا۔ مجھے لالہ نذر، جلیل اصغر اور دیگر سیکرٹریوں کی یاد آئی، جو روزانہ وقت پر آ کر بغیر کسی وقفے کے 2 بجے تک دفتر میں حاضر رہتے تھے اور ”آج کا کام کل پر مت ڈالنے“ کی ایسی مثالیں قائم کرتے تھے۔
نوٹس
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








