نئے سفر کی دہلیز پر۔۔۔
دو ہزار پچیس کا سفر
تم نے مجھے رلایا، ہنسانے سے پہلے۔
تم نے گرایا، اٹھنے کا ہنر سکھانے کے لیے۔
ہر زخم، ایک سبق تھا…
ہر بچھڑنا، ایک آغاز۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ داخلہ پنجاب نے بسنت کے موقع پر دفعہ 144 نافذ کر دی
دو ہزار چھبیس کی پیشرفت
اب میں دو ہزار چھبیس کے دروازے پر ہوں،
ہاتھ میں امیدوں کی مشعل ہے،
دل میں تھوڑا سا ڈر…
اور بہت سا حوصلہ۔
آنے والے لمحوں کے لئے تیاری
میں تیار ہوں —
نئے لمحوں کے لیے،
نئے فیصلوں کے لیے،
اور شاید خود سے ایک نئی ملاقات کے لیے








