چین نے آبادی بڑھانے کے لیے نیا منصوبہ متعارف کروادیا
چین کا نیا آبادی بڑھانے کا منصوبہ
بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن) دنیا کی دوسری بڑی معیشت والے ملک چین نے اپنی آبادی بڑھانے کے لیے نیا منصوبہ متعارف کروا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان سے وکلا کی ملاقات کی درخواست مسترد
آبادی کی کمی اور اس کے حل
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، آبادی کی کمی سے پریشان چین اپنے ملک کی آبادی بڑھانے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ اس نئے منصوبے کے تحت چینی عوام مانع حمل ادویات اور دیگر اشیاء پر 13 فیصد سیلز ٹیکس ادا کریں گے، جبکہ بچوں کی دیکھ بھال کی خدمات مستثنیٰ ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: فوڈ سیفٹی ٹیموں کا ناقص گھی سپلائی کرنے والی فیکٹری کے خلاف آپریشن، 81ہزار کلو بناسپتی گھی تلف
پیدائش کی ایک بچے والی پابندی کا خاتمہ
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے بعد چین میں 1994 سے نافذ ایک بچے کی پیدائش والی پابندی اب ختم ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں مزید 100 پاکستانی زرعی ماہرین نے تربیتی پروگرام مکمل کر لیا
خدمات کی مستثنیات
یہ منصوبہ شادی سے متعلق خدمات اور بزرگوں کی دیکھ بھال کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) سے بھی مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔ یہ ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس میں والدین کی چھٹی بڑھانا اور نقد رقم جاری کرنا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر علی ظفر نے علامہ راجا ناصر عباس کی بطور اپوزیشن لیڈر تعیناتی کے لئے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھ دیا
نوجوانوں کی شادی اور بچے پیدا کرنے کی ترغیب
مزید براں، بیجنگ زیادہ سے زیادہ نوجوان چینی لوگوں کو شادی کرنے اور جوڑوں کو بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔
پیدائش کی شرح میں کمی
میڈیا رپورٹس کے مطابق، سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چین کی آبادی لگاتار 3 سال کم ہوئی ہے، جس میں 2024 میں صرف 9.54 ملین بچے پیدا ہوئے۔ یہ ایک دہائی قبل ریکارڈ کی گئی پیدائش کی شرح کا نصف ہے۔








