پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات و سہولتوں کی فہرستوں کا تبادلہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات کا تبادلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات و سہولتوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کانپور کے لیے ٹرین پکڑنے کے لیے ہمارے پاس وقت بہت کم رہ گیا تھا، مولانا آزاد کے مزار پر کھڑے کھڑے جوہر برادرز کے لیے غائبانہ دعا کی۔
سفارتی ذرائع کی معلومات
روزنامہ جنگ کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فہرستوں کا تبادلہ جوہری تنصیبات پر حملوں کی ممانعت معاہدے کے تحت ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان 63 فیصد شرحِ خواندگی کے ساتھ جنوبی ایشیا میں سب سے پیچھے ہے، فافن رپورٹ
فہرستوں کی منتقلی
پاکستان کی جوہری تنصیبات کی فہرست بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندے کے حوالے کر دی گئی ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ نے بھارت کی فہرست نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کو فراہم کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے یورینیئم افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کیا تو پھر حملہ کریں گے : ڈونلڈ ٹرمپ
تاریخی پس منظر
جوہری تنصیبات سے متعلق معاہدے پر پاکستان اور بھارت نے 31 دسمبر 1988 کو دستخط کیے تھے۔
سالانہ تبادلہ
سفارتی ذرائع نے کہا کہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو جوہری تنصیبات و سہولتوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔








