ہر سال 62 لاکھ مزید بچے پیدا ہو رہے ہیں، پیدائش میں وقفہ دے نہیں رہے اور اسپتالوں کو برا کہتے ہیں: مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیر صحت کا خطاب
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ 25 کروڑ کی آبادی میں ہر سال 62 لاکھ مزید بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ ہمیں پیدائش میں وقفہ دینے پر توجہ دینی چاہیے، ورنہ اسپتالوں کو برا کہنا بے فائدہ ہوگا۔ جب نوجوان نسل بیمار ہوگی تو ملک کیسے ترقی کرے گا؟
یہ بھی پڑھیں: لوگ ہوتے ہوئے آباد بھی آباد نہیں …
پہلی تھیلیسیمیا موبائل وین کا افتتاح
ملک کی پہلی تھیلیسیمیا موبائل وین کے افتتاح کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے، وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہمیں اسپتال بنانے پر نہیں بلکہ مریض کم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ہمارے یہاں بچوں کی پیدائش کے وقت ماؤں کی اموات ہو رہی ہیں۔ دو متاثرہ افراد کی شادی سے بچہ متاثر ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا لاہور میں شیر حملے کے زخمیوں کو فی کس پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان
بیماریوں کی وجوہات
ڈاکٹروں کے مطابق 70 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ صحت کی دیکھ بھال کا اصل مقصد انسان کو مریض بننے سے بچانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ بجٹ میں بڑی کمپنیوں کے لیے سپرٹیکس میں کمی کی تیاریاں
تھلیسیمیا کا علاج
’’جنگ‘‘ کے مطابق، مصطفیٰ کمال نے بیان کیا کہ تھلیسیمیا کا علاج بون میرو ہے اور 50 ہزار میں کوئی ایک بون میرو میچ کرتا ہے۔ پاکستان میں تھلیسیمیا کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا
یہ بیماری کیوں بڑھ رہی ہے؟
کمال کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ تھلیسیمیا کا ٹیسٹ نکاح سے قبل لازم قرار دیا جائے۔ پاکستان میں پولیو ویکسین جیسے معاملات میں پولیس کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ لوگوں کو ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات ہوتے ہیں۔
اختتام
جب نوجوان نسل بیمار ہوگی تو ملک کیسے ترقی کرے گا؟ احتیاط علاج سے بہتر ہے، ہمیں اسپتالوں میں مریضوں کے رش کو کم کرنا ہوگا۔ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ موجودہ چیلنجز کا سامنا کریں۔








