پی پی ایس سی سے منتخب کنسلٹنٹ ڈاکٹرز کی تعیناتیاں فوری طور پر کی جائیں ، ڈاکٹر شاہد ملک
تشویش کا اظہار
لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کے صدر ڈاکٹر شاہد ملک نے پنجاب پبلک سروس کمیشن (PPSC) کے تحت میرٹ پر منتخب ہونے والے کنسلٹنٹ ڈاکٹرز کی تعیناتیوں میں بلاجواز تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آل پارٹیز کانفرنس آج: فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ
تقرریوں میں تاخیر
ڈاکٹر شاہد ملک نے کہا کہ مختلف شعبہ جات میں سینکڑوں کنسلٹنٹ ڈاکٹرز تمام قانونی اور انتظامی مراحل مکمل کرنے کے باوجود تاحال اپنی تقرری کے منتظر ہیں، حالانکہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی جانب سے باقاعدہ سفارشات جاری کی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تقرری آرڈرز کو روکنا نہ صرف آئینِ پاکستان بلکہ میرٹ کے بنیادی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کی مشکلات کے حل کے لیے قومی شناختی قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں، ترجمان نادرا
محکمہ صحت کی خامیاں
انہوں نے انکشاف کیا کہ محکمہ صحت کے بعض افسران سیکرٹری صحت کی ایما پر تقرری آرڈرز روک کر بیٹھے ہیں، جس کے باعث سرکاری اسپتالوں میں کنسلٹنٹس کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے اور مریضوں کو براہِ راست نقصان پہنچ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کلاؤڈ فلیئر کی خرابی سے عالمی سطح پر بڑی ویب سائٹس اور پلیٹ فارمز متاثر
ذاتی تجربات
ڈاکٹر شاہد ملک نے مزید بتایا کہ 22 جولائی 2025 بروز منگل منتخب امیدواران جب اپنے تقرری آرڈرز کے حصول کے لیے سیکرٹری صحت کے دفتر گئے تو نہ صرف انہیں آرڈرز جاری کرنے سے انکار کیا گیا بلکہ توہین آمیز اور سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں دفتر سے باہر نکال دیا گیا، جو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 72 اجنبیوں سے بیوی کیساتھ جنسی زیادتی کروانے والے شوہر کیا سزا ملنے کا امکان ہے؟ حیران کن انکشاف
مطالبات
صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین ناانصافی کا فوری نوٹس لیں، تقرری آرڈرز بلا تاخیر جاری کروائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں، تاکہ میرٹ کی بالادستی قائم ہو اور نوجوان، محنتی ڈاکٹرز کو ان کا جائز حق مل سکے۔
آخری اعلان
آخر میں ڈاکٹر شاہد ملک نے واضح کیا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گی اور اگر ضرورت پڑی تو تمام قانونی اور جمہوری آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔








