آوے کا آوہ ہی بگڑ چکا تھا، جسے کام آتا تھا وہ بھی اور جسے نہیں آتا تھا سبھی برابر ہو چکے تھے،” جس کی لاٹھی اس کی بھینس” والے معاملہ میں سب کچھ برباد ہو گیا۔

مصنف کی معلومات

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 397

یہ بھی پڑھیں: یوٹیلیٹی اسٹور رائٹ سائزنگ، 2800 کنٹریکٹ ملازمین فارغ

2013 کی صورت حال

2013ء میں تو آوے کا آوہ ہی بگڑ چکا تھا۔ جسے کام آتا تھا وہ بھی اور جسے نہیں آتا تھا سبھی برابر ہو چکے تھے۔ جنہیں کام میں مہارت تھی وہ اپنے ساتھیوں سے، جنہیں کام نہیں آتا تھا، ان کا کام پیسوں کے عوض کرنے لگے تھے۔ پیسے دینے والے اپنی جیب سے نہیں بلکہ سائیلان کی جیب سے رقم لے کر ادا کرتے تھے۔ کمپیوٹر یونین کونسلوں کے دفاتر پہنچ گئے تھے، اور اکا دوکا سیکرٹریوں نے منشی رکھ لئے تھے جو کمپیوٹر آپریٹ کرتے تھے۔ یونین کونسلوں میں کھپایا گیا چونگی سٹاف، جسے ماسوائے پرچی کاٹنے کے کوئی دوسرا کام آتا ہی نہیں تھا، حالات بہت خراب کر دئیے تھے۔ نہ کوئی سنیارٹی رہی تھی، نہ کام سے واقفیت کا کوئی معیار تھا۔ "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" والے معاملے میں سب کچھ برباد ہو گیا تھا۔ رحیم یار خاں میں قائم عمال کے گروپس میں ایسے ہی لوگ موجود تھے۔ ان کی نالائقی کو گروپس کے سربراہ تحفظ فراہم کرتے اور انہی نے ان کے عیبوں پر پردہ ڈال رکھا تھا۔ یہی ان کی چودھراہٹ کی خوبی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی قیادت جیل میں سیاسی نوعیت کی ملاقاتیں کرنا چاہتی ہے، عقیل ملک

چوہدری دھرے گئے

ساڑھے آٹھ بجے رشید باجوہ کی یونین کونسل نمبر 228 پہنچے، جس کے دفتر پر لگا بڑا سا تالہ ہمارا منہ چڑا رہا تھا۔ کچھ دیر اس تالے کو دیکھتے رہے، یہ مسکراتا رہا اور اسے کھولنے والا کوئی نہ آیا۔ قریبی کھوکھے والے سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ دفتر نو ساڑھے نو بجے کھلتا تھا جبکہ سیکرٹری 10 بجے کے قریب آتا تھا۔ وہ بھی ہفتے میں 3 دن اور اس روز اس کے ناغے کا دن تھا۔ میں نے کھوکھے والے سے کہا؛ "بیٹا! لاہور سے آیا ہوں بیٹے کی جنم پرچی بنوانی تھی۔" وہ بولا؛ "سر! ٹھنڈی بوتل پئیں اور کل آئیں۔" اس بے چارے کو نہیں معلوم تھا کہ یہ ساری گفتگو میں اپنے موبائل میں ریکارڈ کر چکا تھا۔ موبائل آج کے دور کا سب سے بڑا جاسوس اور سب سے بڑا detective بن چکا ہے۔ اس کا استعمال احتیاط سے کریں۔ تالے لگے منہ چڑاتے گیٹ کی چند تصاویر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لی تھیں۔ اگلی منزل احمد کمبوہ کی یونین کونسل تھی، جس کا نام اور نمبر یاد نہیں رہا۔ ابھی تک ڈی او سی او رحیم یار خاں کے علم میں نہ تھا کہ ہم اس کی ایک یونین کونسل کے وزٹ کے بعد دوسری کی طرف رواں تھے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں شوہر کی غیرموجودگی میں جیٹھ کی بھابھی سے زیادتی، ملزم کو گرفتار کر لیا گیا

یونین کونسل کا دورہ

پندرہ بیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد دوسرے دفتر پہنچے۔ جیپ اس دفتر سے دور کھڑی کی، اور میں پیدل ہی اُس دفتر کے احاطے جا پہنچا۔ جہاں کافی سائیلان موجود تھے اور احمد بھی اپنے دفتر میں میری آمد سے بے خبر کام میں مصروف تھا۔ میں نے صحن میں کھڑے ایک صاحب سے پوچھا؛ "مجھے جنم پرچی (برتھ سرٹیفیکیٹ) بنوانی ہے۔ کیا طریقہ کار اور کتنی فیس ہے؟" وہ سادگی سے بولا؛ "جناب! اندر سیکرٹری صاحب بیٹھے ہیں۔ 500 روپیہ جمع کرائیں اور پرچی بنوا لیں۔" میں نے کہا؛ "آپ کیسے آئے ہیں؟" جواب ملا؛ "میں نے بھی اپنے 5 بچوں کی پرچیاں بنوانی ہیں۔ پچیس سو (۰۰۵۲) روپے جمع کرائے ہیں۔ ابھی تھوڑی دیر میں پرچیاں مل جائیں گی۔" اس کی بات ختم ہونے تک میں خورشید صاحب کو فون کرکے بلا چکا تھا۔ سرکاری جیپ اندر آتے دیکھ کر احمد کمبوہ بھی دفتر سے باہر آیا اور مجھے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ میرے گھٹنوں (یہ اس علاقے میں تعظیم کے لئے کیا جاتا ہے) کو چھو کر بڑی گرم جوشی سے ملا۔ وہ شخص جس سے میں معلومات لے چکا تھا یہ سب دیکھ کر گھبرا گیا۔ میں نے احمد سے پوچھا؛ "اس سائل سے کتنے پیسے لئے ہیں اور کیا رسید جاری کی ہے؟" اس نے جواب دیا؛ "سر! 500 روپیہ لیا ہے 5 پرچیوں کا اور رسید ابھی جاری کرنی ہے۔" یاد رہے کہ تب سرکاری فیس برائے کمپیوٹرایزڈ سرٹیفیکیٹ 100 روپے تھی۔ آج کل شاید 200 روپے ہے۔ میں نے سائل کو بلایا، اپنا تعارف کرایا اور پوچھا کتنے پیسے دئیے تھے۔ اُس نے کچھ جھجھک محسوس کی مگر میری حوصلہ افزائی اور یقین دہانی "کہ تمہیں پرچیاں میں ابھی جاری کرا کر جاؤں گا" بولا؛ "سر! 2500 روپے ادا کئے تھے۔" میں نے اضافی 2 ہزار روپے موقع پر ہی سائل کو واپس کروائے۔ اس کا بیان ریکارڈ ہو چکا تھا۔ پیسے واپس کرتے باجوہ کی ویڈیو بن چکی تھی۔ اسے معطل کرنے کا حکم جاری کیا تو خالد مسعود کو پتہ چلا کہ ہم رحیم یار خاں میں ہیں۔ (جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...