میرے دادا اور اُنکے بھائی کھیتی باڑی کرتے تھے لیکن انکی زمینیں ”چاہی“ زمینیں تھیں جن کو بیلوں کی مدد سے کنوؤں سے پانی دیا جاتا تھا۔
مصنف کا تعارف
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 16
یہ بھی پڑھیں: معروف تامل اداکارہ کی بھی غیراخلاقی ویڈیو لیک، پرگیہ کا ردعمل بھی آگیا
غلام محمد کا سفر
دوسرا ملک کینیا تھا جس کے متعلق اپنے ”بڑوہ“ گاؤں سے گئے ایک شخص محمد اسماعیل جو کینیا میں ایک انگریز کے ساتھ بطور کرین ڈرائیور کام کرتا تھا کہ وہ اپنی لڑکی کی شادی کرنے آیا تو ہمارے گاؤں ”بڑوہ“ کے ایک غریب گھرانے کے فرد ”غلام محمد“ کو بھی گاؤں کے چودھریوں کے زور ڈالنے پر کینیا لے گیا۔ اِس طرح غلام محمد پاکستان بننے سے بھی کئی سال پہلے کینیا پہنچ گیا اور وہاں مزدوری کرنے لگا۔ جو کچھ پَس انداز کرتا گھر بھیجتا رہا اور پھر یہی شخص پاکستان بننے کے کئی سال بعد گاؤں ”چندیاں تلاواں“ نزد فیصل آباد پاکستان میں اپنی فیملی سے آن ملا، جہاں ہم بھی پاکستان بننے کے بعد آکر آباد ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جو معاشرہ سچ سے جتنا دور ہوتا ہے وہ سچ بولنے والوں سے اتنی ہی نفرت کرتا ہے۔ ویسے بھی ناکامی سوتیلی ہوتی ہے اور کامیابی کے سو رشتہ دار۔
واقعات کی وضاحت
اُوپر ساری تفصیل بیان کرنے سے میرا مُدعا یہ تھا کہ بعض واقعات کے متعلق جب حتمی شواہد موجود نہ ہوں تو اس طرح حالات و واقعات کی کڑیاں جوڑ کر سمجھانا پڑتا ہے۔ ہوایُوں کہ میرے دادا ”حاجی غلام محمد“ اور اُن کے بھائی ”حاجی قطب الدین“ بھی اوپر ذکر کردہ زمانے میں محنت مزدوری کرنے کے لیے گئے۔ کس ملک میں گئے،کتنا عرصہ باہر رہے، کتنی دولت پَس انداز کر کے لائے، اُس کا کوئی حتمی ریکارڈ موجود نہیں۔ کیونکہ یہ سب کچھ میری پیدائش سے پہلے ہوا۔ سوائے اُن شواہد کے جو گھر میں موجود ”دولت“ کے جومِٹّی کے بڑے مٹکوں میں ملکہ برطانیہ کے چاندی کے سکّوں پر بنی اُن کی تصویر والے سکّوں سے بھرے ہوئے تھے۔ وہاں قرب و جوار میں تو ایسے کہیں مواقع نہ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹس اب بھی بنگلہ دیش کے میڈیا، تعلیمی شعبے اور انتظامیہ میں سرگرم ہیں، تہلکہ خیز انکشاف
زرعی زمین اور معیشت
میرے دادا اور اُن کے بھائی کی زرعی زمین تو تھی کھیتی باڑی کرتے تھے لیکن یہ ”چاہی“ زمینیں تھیں جن کو بیلوں کی مدد سے کنوؤں سے ”چڑسوں“ کے ذریعے پانی نکال کر پتلی پتلی نالیوں کے ذریعے کھیتوں کو دیا جاتا تھا۔ بارشیں بھی ہوتی تھیں۔ لیکن تھوڑے رقبوں سے بس محدود سی آمدن کی توقع کی جاسکتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ نازش جہانگیر کو ہراساں کرنے کے کیس میں پیشرفت مگر کامیابی نہ مل سکی
بیرون ملک محنت
یاد رہے ”بڑوہ“ کے نوجوان غلام محمد اسی دوران کینیا گئے۔ ہو سکتا ہے کہ تینوں صلاح مشورہ سے اکٹھے ہی گئے ہوں۔ بہرحال قصہ مختصر یہ کہ اندازہ یہ ہے کہ یہ دونوں بھائی بیرون ملک گئے۔ پانچ سات سال وہاں محنت مزدوری کر کے واپس آئے تو ملکہ برطانیہ کی تصویر والے روپئے کی شکل میں کافی دولت لائے۔
یہ بھی پڑھیں: براہ راست گولی مارو
دادا جان کا کاروبار
دادا جان کی لائی ہوئی دولت سے والد صاحب کے بڑے بھائی ”قاسم علی“ جو اُس وقت شادی شدہ تھے اور میری والدہ سے اُن کا پہلا نکاح ہوا تھا اور ایک لڑکا محمد شریف بھی پیدا ہوا، اُس کو کاروبار کرنے کی سوجھی تو لدھیانیہ شہر میں گرم کپڑے بنانے کے ایک یونٹ کی بنیاد رکھی۔ اِس کے ثبوت کے طور پر میں خود بھی گواہ ہوں کہ میں نے اپنے گھر میں گرم کپڑے کے ”سمپل کے بنڈل“ جو ہم عام طور پر دُوکانوں میں دیکھتے ہیں، اپنے گھر میں تین چار پڑے اکثر دیکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: ممبئی میں شدید بارش، 107 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، ریڈ الرٹ جاری، متعدد ٹرینیں منسوخ
خلاصہ
وہاں شروع کیا گیا کام کہاں تک پایۂ تکمیل تک پہنچا یا گیا۔ کیا مجموعی صورتِ حال تھی کچھ نہیں کہ سکتے کہ اس سلسلے میں کچھ ٹھوس شواہد دستیاب نہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








