ملک میں یکساں نظام تعلیم فوری نافذ کرنا چاہیے، بے ایمانی کے خلاف زیرو ٹالرینس ہونی چاہیے، بچے کو تربیت دے کر مائنڈ سیٹ مستحکم کرنا چاہیے
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 265
کل 80 ہزار روپے عطیات کی یہ رقم مورخہ 2 جون 2009ء کو راقم نے ظفر علی راجا کے ہمراہ روزنامہ نوائے وقت کے آفس جا کر “نوائے وقت فنڈ” برائے متاثرین سوات، مالا کنڈ، مجید نظامی چیف ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت کے حوالے کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی: 27 مئی سے اب تک بارشوں اور آندھی سے ہونیوالے نقصانات کی تفصیلات جاری
پروفیسر شفیق جالندھری
امریکہ اور پاکستان میں اب بہتر انڈر سٹینڈنگ پیدا ہو گئی ہے۔ اس وجہ سے ایک دو ماہ میں حالات بہتر ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ سٹیزن کونسل آف پاکستان نے مالی معاونت شروع کرکے بہت اچھا اقدام کیا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہماری کمزوریوں کی جڑ کیا ہے۔ حالات کی گہرائی کو ٹھنڈے دل سے سوچنا ہے۔ پاکستان کو المیہ جات سے بچانے کے لیے بڑے بڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم فوری طور پر نافذ کرنا چاہیے۔ بے ایمانی کے خلاف زیرو Tolerance ہونی چاہیے۔ ایسے لوگوں کو پھانسی دینا چاہیے۔ بچے کو 6 سے 10 سال کے اندر تربیت دے کر اس کا ماینڈ سیٹ درست اور مستحکم کرنا چاہیے۔
جنرل (ر) راحت لطیف
روس کو توڑنے کے لیے پاکستان کو استعمال کیا گیا۔ اس دوران اسلامی دنیا میں پاکستان ایٹمی ملک بن چکا تھا۔ اہم طاقتور ملک مسلمان ایٹم بم کو برداشت نہیں کر سکا اور آج تک پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ اس کے لیے اسامہ بن لادن کا نام اور 9/11 کا واقعہ استعمال کیا گیا۔ افغانستان کو تباہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد عراق، ایران اور پاکستان کو ٹارگٹ پر رکھا گیا، عراق کی تباہی کے بعد ایران کو ملتوی کرتے ہوئے پہلے پاکستان پر کارروائی شروع کی گئی۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے امریکہ کے تمام اہم مطالبات کو تسلیم کر لیا۔ اس طرح وزیر ستان اور سوات وغیرہ کا بدقسمت المیہ آغاز پذیر ہوا۔ امریکہ نے اس مقصد کے لیے پالیسی اپنا لی۔ کراچی میں کور کمانڈرز پر حملہ کیا گیا۔ فوج کو فاٹا اور وزیرستان سے ڈرایا گیا۔ میر مصحف ایئرمارشل کے جہاز کا حادثہ کروایا گیا۔ مشرف پر حملے کروائے گئے اور ان کا تعلق بھی فاٹا سے جوڑا گیا۔ اس کے نتیجے میں 1 لاکھ فوج فاٹا میں بھجوائی گئی۔ اب کہا جا رہا ہے کہ ہندوستان سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں۔ اصل خطرہ طالبان سے ہے۔ ان کی تازہ پالیسی یہ ہے کہ پاکستانی عوام اور فوج کو لڑایا جائے۔ اب حکومت کے پاس Options بہت محدود ہیں۔ حکمرانوں کو مہاجرین اور فوج کے کیمپوں کا دورہ کرنا چاہیے اور فوج کا مورال بلند کرنا چاہیے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








